30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہ تعالٰی نے حضرت علامہ مولانا محمد الیاس قادری عطار مدظلہ کی صورت میں اہل سنت کو بہت بڑا سرمایہ عطا فرمایا ہے، جن کے شب و روز تبلیغی اجتماعات سے ہزاروں لوگ فسق و فجور سے نکل کر راہِ ہدایت پر آچکے ہیں ۔
فقیر کو ملتان شریف کے اجتماع میں حاضری کا موقع ملا، ایک ہوٹل پر ایک بچے کو دیکھا ۔ کھانے سے پہلے یہ دعا پڑھ رہا تھا ’’ بِسْمِ اللہ الَّذِیْ لَایَضُرُّ مَعَ اسمِہ شَیئٌ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَاءِ وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْم ‘‘ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا یہ حضرت کی تبلیغ کا اثر ہے۔اللہ تعالٰی علامہ صاحب کو احیائے اہل سنت کے لیے طویل عمر عطا فرمائے۔آمین بجاہ النبی الکریمصلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی علمائے اہلسنّت پر رَحمت ہو اوران کے صد قے ہما ری بے حسا ب مغفِرت ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہ تعالٰی علٰی مُحمَّد
(14) حضرت علامہ مولانا محمد صدیق ہزارویمُدَّظِلُّہُ العَالِی
(جامعہ نظامیہ رضویہ مرکز الاولیاء لاہور )
اس فقیر پر تقصیر کے نزدیک حضرتِ امیر دعوتِ اسلامی کی عظمت و شان اس سے بڑھ کر کیا ہوسکتی ہے کہ اللہ تعالٰی نے ان کے ذریعے دینِ اسلام کا اتنا عظیم انقلاب برپا کرکے عالمِ اسلام کے قلب و ر وح کو منور فرمایا اور عالمِ ظاہر کو سنّتِ رسول صلّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بہار عطا فرمائی۔
اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ وہ ذاتِ رحیم و کریم حضرت مولانا محمد الیاس عطار قادری زید مجدہ کے لگائے ہوئے پودے کو جو شجر پُر ثمربن چکا ہے مخالفین کے تعصب و عِناد کے آرے سے محفوظ رکھے اور یہ شمع سے شمع جلتی رہے اور تاقیامت اہل سنت و جماعت کا یہ اجتماعی تبلیغی نظام قائم و دائم اور ثمر آوررہے۔ آمین بجاہ النبی الکریم علیہ التحیۃ والتسلیم
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی علمائے اہلسنّت پر رَحمت ہو اوران کے صد قے ہما ری بے حسا ب مغفِرت ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہ تعالٰی علٰی مُحمَّد
(15) جگر گوشہ شارح بخاریحضرت علامہ مولانا محمد محب الحق امجدی مُدَّظِلُّہُ العَالِی
(ہند)
حضرت مولانا محمد الیاس قادری صاحب سے احقر پہلی مرتبہ اس وقت متاثر و متعارف ہوا جب ایک بار مدینۃ الاولیاء (ملتان) میں عالمی اجتماع ہورہا تھا، اسی وقت شب میں ریڈیو پاکستان لگایا تو اجتماع کی کارروائی نشر ہورہی تھی۔ میں اس رقت انگیز دعا کو سننے لگا یہاں تک کہ احقر کے سیاہ دل پر رقت طاری ہوگئی۔ جب دعا ختم ہوئی تو ریڈیو پاکستان نے بتایا کہ امیر ملت حضرت مولانا الیاس قادری صاحب مدظلہ العالی دعا فرمارہے تھے۔میں سوچنے لگا کہ یہ خواب دیکھ رہا ہوں یا حقیقت ۔جب سے جاننے کی خواہش ہوئی کہ حضرت مولانا موصوف کون ہیں ؟ کیا ہیں ؟ اور ان کی دعوت کا مقصد کیا ہے؟
والد گرامی شارح بخاری علامہ مفتی شریف الحق امجدی صاحب قدس سرہ العزیز کولمبو سفر سے واپس آئے تو کسی عقید ت مند نے انہیں فیضانِ سنت تحفہ میں پیش کی تھی۔ جب غریب خانہ پر تشریف لائے تو فیضانِ سنت بھی ان کے پاس تھی ۔ میں نے پہلی فرصت میں اس کا مطالعہ شروع کردیا۔ جوں جوں مطالعہ کرتا گیا دل میں یہ بات اترتی گئی کہ یہ یقیناً مقبولِ بارگاہ کتاب ہے اوریقیناً اسے سچے عاشقِ رسول نے لکھا ہے۔ احقر نے فیصلہ کیا کہ اس کتاب کو تنہا نہیں پڑھنا چاہیے بلکہ مسجدِ برکات میں رکھ دیں اور امام صاحب سے گزارش کریں کہ آپ بعدِ نماز ِ عصر اس کو پڑھیں (درس دیں ) تاکہ سب لوگ فائد ہ اٹھائیں اور پھروالد گرامی جس کی تعریف کریں … جس کے متعلق فرمائیں کہ پچاس سال میں علماء نے جو کام نہیں کیا مولانا الیاس نے وہ چند سالوں میں کردیا… جن کی تعریف و توصیف وہ نجی اور عام محفلوں میں کریں … وہ ہمارے لیے ہر طرح سے سند ہے۔ اللہ تعالٰی ان کی عمر دراز فرمائے اوران کی دعوت کو عام فرمائے، آمین۔ ملاقات کا اشتیاق بہت ہے… دیکھئے! کب بخت آوری ہوتی ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی علمائے اہلسنّت پر رَحمت ہو اوران کے صد قے ہما ری بے حسا ب مغفِرت ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہ تعالٰی علٰی مُحمَّد
(16) حضرت علامہ مولانامفتی عبد المنان مُدَّظِلُّہُ العَالِی
(مترجم کنزالایمان ، مفتی بنگلہ دیش)
الحمدللّٰہ دعوت ِ اسلامی کے سب کام مجھے بہت اچھے لگے اوراس پُر فتن اورعمل سے اعراض کے دور میں سنت کے پھیلانے کی جو تحریک قائم کی ہے اس سے سنی دنیا میں ایک نئی امید پیدا ہوئی ہے، دعوت کے ساتھ ساتھ لائبریری میں کتابوں کا جو ذخیرہ دیکھا اس سے ان شاء اللہ سنیت کا انقلاب برپا ہوگا اس سے میں بہت متاثر ہوں اور اللہ سے دعا ہے کہ اللہجل شانہ دعوت ِ اسلامی کو اور بھی ترقی دے، آمین۔ امیر دعوتِ اسلامی حضرت علامہ الیاس قادری دامت برکاتہم العالیہ سے میری پہلی ملاقات دبئی میں ہوئی تھی تو آ پ کو دیکھ مجھے یقین ہوا کہ الحمدللّٰہ یہ اللہ کے ولی ہیں ۔
اللہ عَزّ وَجَلَّکی علمائے اہلسنّت پر رَحمت ہو اوران کے صد قے ہما ری بے حسا ب مغفِرت ہو
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہ تعالٰی علٰی مُحمَّد
(17) حضرت علامہ مولانا مفتی محمد رضا المصطفیٰ ظریف القادری مُدَّظِلُّہُ العَالِی
(ڈائریکٹر پاک سنی اکیڈمی گوجرانوالہ)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع