We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Khamosh Shehzada

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

خاموش شہزادہ ([1])

شیطٰن لاکھ  روکے مگر  یہ رسالہ  (48صَفْحات)  مکمَّل پڑھ لیجئے اگرزبان کی احتِیاط کی عادت نہ ہوئی تو دل خوفِ خداسے  زندہہونے کی صورت میں اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ  آپ روپڑیں گے۔

دُرُود شریف کی فضیلت

           رسولِ نذیر ،   سِراجِ منیر،  محبوبِ ربِّ قدیر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ دلپذیر ہے: ذِکرِ الٰہی کی کثرت کرنا اور مجھ پر دُرُودِ پا ک پڑھنا فقر (یعنی تنگدستی)  کو دُور کرتا ہے ۔    (اَلْقَوْلُ الْبَدِ یع ص۲۷۳)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

          شہزادے نے یکا یک چُپ سادھ لی ۔   بادشاہ اور وُزرا اورتمام درباری حیران ہیں کہ آخِر اس کو ہو کیاگیا ہے جو بولتانہیں !  سب نے کوشش کر دیکھی لیکن شہزادہ خاموش تھا خاموش ہی رہا۔   خاموشی کے باوُجُود شہزادے کے معمولات میں کوئی فَرق نہیں آیا۔   ایک دن خاموش شہزادہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پرندوں کا شکار کھیلنے چلا ۔   کمان پر تیر چڑھائے ایک گھنے دَرَخت کے نیچے کھڑا اُس میں پَرَندہ تلاش کر رہا تھا،    اتنے میں دَرَخت کے پتّوں کے جُھنڈکے اندر سے کسی پَرَندے کے بولنے کی آوازآئی ،   بس پھر کیا تھا ،  اُس نے فوراًآواز کی سَمت تیرچلا دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک پرندہ زخمی ہوکر گرااور تڑپنے لگا۔  خاموش شہزادہ بے اختیار بول اُٹھا: پَرَندہ جب تک خاموش تھا سلامت رہا مگر بولتے ہی تیر کا نشانہ بن گیا اورافسوس !  اس کے بولنے کے سبب میں بھی بول پڑا! ۔

چُپ رہنے میں سو سکھ ہیں تو یہ تجرِبہ کرلے

     اے بھائی!  زَباں پر تُو لگا قفلِ مدینہ (وسائلِ بخشِش ص۶۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                    صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

خاموشی میں اَمن ہے

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  یہ حکایت من گھڑت ہی سہی مگر یہ ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ باتُونی شخص دوسروں کو بولنے پر مجبور کردیتا ،   اپنا اور دیگرافراد کا وقت برباد کرتا ،   کئی باربول کر پچھتاتا اور بارہا پریشانی اُٹھاتاہے ،   واقِعی انسان جب تک خاموش رہتاہے بَہُت ساری آفتوں سے اَمن میں رہتاہے۔  

بہرام اور پَرَندہ

     کہتے ہیں :  بہرام کسی دَرَخت کے نیچے بیٹھا تھا ،  اُسے ایک پَرَندے کی آواز سنائی دی اور اُس نے اُسے مار گرایا پھر کہنے لگا:  زَبان کی حفاظت انسان اور پَرَندے دونوں کے لئے مُفید ہے اگر یہ پَرَ ندہ اپنی زَبان سنبھالتا تو ہلاک نہ ہوتا ۔    (مُستطرف ج۱ ص ۱۴۷ )  

خاموشی کی فضیلت پر چار فرامِینِ مصطَفٰے

 {1} مَنْ صَمَتَ نَجَا یعنی جو چپ رہا اُس نے نَجات پائی۔   (تِرمِذی  ج۴ ص۲۲۵ حدیث ۲۵۰۹)  {2} اَلصَّمْتُ سَیِّدُ الْاَخْلاَقخاموشی اَخلاق کی سردار ہے۔  (اَلْفِردَوس بمأثور الْخطّاب ج۲ص۴۱۷حدیث۳۸۵۰)  {3} اَلصَّمْتُ اَرْفَعُ الْعِبَادَۃِخاموشی اعلیٰ درجے کی عبادت ہے۔  (اَیضاً حدیث۳۸۴۹)   {4} آدَمی کا خاموشی پر قائم رہنا60 سال کی عبادت سے بہتر ہے۔   (شُعَبُ الْاِیمان ج۴ ص۲۴۵ حدیث ۵۳ ۴۹ )

 



[1]    یہ بیان امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ نے تبلیغِ قراٰن و سنت کی عالمگیر غیرسیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے عالمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ کے اندر ہفتہ وار سنّتوں بھرے اِجتِماع (۹جمادی الاخری۱۴۳۲؁ ھ / 12-5-11) میں فرمایا تھا۔ترمیم و اضافے کے ساتھ تحریراً حاضرِ خدمت ہے۔     ۔مجلسِ مکتبۃُ المدینہ



Total Pages: 18

Go To