Book Name:Wasail e Bakhshish

اِتنی بے تاب نہ ہو آنے دے طیبہ کی گلی

رُوحِ مُضطَر تجھے کچھ وقت بڑھانا ہوگا

 

گنبدِ خَضرا کی جس وقت میں   دیکھوں   گا بہار

مجھ گنہگار کی بخشش کا بہانہ ہوگا

جب سُوالات، نکیرین کریں   گے مجھ سے

لب پہ سرکار کی نعتوں   کا ترانہ ہوگا

حشر میں   جب ہمیں   سرکار نظر آئیں   گے

کیسا منظر وہ حسین اور سُہانا ہوگا

تجھ کو گر رُتبۂ عالی کی طلب ہے بھائی!

غور سے سن تجھے ہَستی کو مٹانا ہوگا

اُن کی دَہلیز پہ سر اپنا جُھکا دے بھائی!

دیکھنا سب تِرے قدموں   میں   زمانہ ہوگا

بھائیو! چاہئے گر ربِّ محمد کی رِضا

خود کو محبوب کی سنّت پہ چلانا ہوگا

میری سرکار کے قدموں   میں   ہی اِن شاءَ اللّٰہ

میرا فِرَدوس میں   عطارؔ ٹھکانا ہوگا

اِس برس بھی نہ مدینے میں   اگر آئی موت

گھر کو روتے ہوئے عطارؔ روانہ ہوگا

 

مجھ کو آقا مدینے بلانا، سبز گنبد کا جلوہ دکھانا

مجھ کو آقا مدینے بلانا، سبز گنبد کا جلوہ دکھانا

تم نِقاب اپنے رُخ سے اُٹھانا اپنے قدموں   سے مجھ کو لگانا

آناآنا مِرے سرور آنا، آکر آنکھوں   میں   میری سمانا

مجھ کو الفت کا ساغَر پلانا، میرا سینہ مدینہ بنانا

اب گھڑی ہائے!رخصت کی آئی، ماہِ رَمضاں  سے ہوگی جدائی

دیدو اب غم مدینے کا دیدو مجھ کو عیدی میں   شاہِ زمانہ

 



Total Pages: 406

Go To