Book Name:Afw o Darguzar Ki Fazilat Ma Aik Aham Madani Wasiyat

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ  رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

عَفْو ودَرْگُزَر کی فضیلت

مع

ایک اَہَمّ مَدَنی وَصیَّت

شیطٰن لاکھ سستی دلائے یہ رِسالہ (32صفحات)  مکمَّل پڑھ لیجئے اِن شاءَاﷲ  عَزَّوَجَلَّ

آپ کا دل ان فضائل کو پانے کے لئے بے چین ہو جائیگا ۔

دُرُود شریف کی فضیلت

          سرکارِمدینۂ منوّرہ،   سردارِمکّۂ مکرّمہ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کا فرمانِ  بَرَکت نشان ہے:اے لوگو ! بے شک بروزِ قِیامت اسکی دَہشتوں اور حساب کتاب سے جلد نَجات پانے والا شخص وہ ہوگاجس نے تم میں سے مجھ پر دنیا کے اندر بکثرت دُرُودشریف پڑھے ہوں گے۔  (مُسندُ الْفِردَوس ج۵ص۳۷۵ حدیث۸۲۱۰)  

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب!                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

مَدَنی آقاصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا عَفْو ودَرْگُزَر

        حضرتِ سیِّدُنا اَنس رضی اﷲ تعالٰی عنہ کا بیان ہے کہ میں نبیِّ کریم،     رء ُوفٌ رَّحیمعَلَیہ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِوَ التَّسلیم  کے ہمراہ چل رہا تھا اور آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ایک نَجرانی چادر اَوڑھے ہوئے تھے جس کے کَنارے موٹے اور کُھردرے تھے،     ایک دم ایک بَدوی  (یعنی عَرَب شریف کے دیہاتی)  نے آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی چادر مبارک کو پکڑ کراتنے زبردست جھٹکے سے کھینچا کہ سُلطانِ زَمَن،     محبوبِ ربِّ ذُوالمِنَن عَزَّوَجَلَّ وصلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی مبارک گردن پر چادر کی کَنار سے خَراش آ گئی ،    وہ کہنے لگا :  اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کا جو مال آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے پاس ہے،     آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمحکم دیجئے کہ اُس میں سے مجھے کچھ مل جائے۔  رحمت ِعالَم صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  اُس کی طرف متوجّہ ہوئے اور مسکرا دئیے پھر اُسے کچھ مال عطا فرمانے کا حکم دیا۔    (صَحیح بُخاری ج۲ص ۳۵۹حدیث۳۱۴۹)

ہرخطا پر مِری چشم پوشی ،    ہر طلب پر عطاؤں کی بارش

مجھ گنہگار پرکس قَدَر ہیں،     مہرباں تاجدارِ مدینہ

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب!                                                                                    صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

            میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے مَدَنی آقا صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بَدوی سے کیسا حُسنِ سُلوک فرمایا ،     میٹھے مصطَفٰی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دیوانو!خواہ کوئی آپ کو کتنا ہی ستائے،    دل دُکھائے !عَفو ودرگزر سے کام لیجئے اور اس کے ساتھمَحبَّت بھر اسُلوک کرنے کی کوشش فرمائیے۔

حساب میں آسانی کے تین اسباب

          حضرتِ سیِّدُنا ابو ہُریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی ہے ،    رسولُ اللہ عَزَّوَجَلَّ و صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :تین  باتیں جس شخص میںہوں گی اللہ تعالٰی  (قیامت کے دن)  اُس کا حساب بَہُت آسان طریقے سے لے گا اور اُس کو اپنی رَحمت سے جنّت میں داخِل فرمائے گا۔   صحابہ کرام عَلَیہِمُ الرِّضْوان نے عرض کی: یا رسولَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ  و صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم! وہ کون سی باتیں ہیں ؟فرمایا: {۱}جو تمہیں محروم کرے تم اُسے عطا کر واور{۲} جو تم سے قَطْعِ تعلُّق کرے (یعنی تعلُّق توڑے)  تم اُس سے مِلاپ کرو اور {۳}جو تم پر ظُلْم کرے تم اُس کومُعاف کردو۔ (اَلْمُعْجَمُ الْاَ وْسَط لِلطّبَرانی ج۴ص۱۸حدیث



Total Pages: 9

Go To