Book Name:Karamaat e Usman e Ghani

            امیرُالْمُؤمِنِین، حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ زبر دست عاشقِ رسول بلکہ عشقِ مصطَفٰے کا عملی نُمونہ تھے اپنے اقوال واَفعال میں محبوبِ ربِّ ذُوالجلال صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنّتیں اور ادائیں خوب خوب اپنایا کرتے تھے  ۔ چُنانچِہ ایک دن حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے مسجدکے دروازے پر بیٹھ کر بکری کی دستی کا گوشت منگوا یا اور کھایا اوربِغیرتازہ وُضو کئے نَماز اداکی پھر فرمایا کہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بھی اِسی جگہ بیٹھ کریِہی کھایا تھا اور اِسی طرح کیا تھا ۔  (مُسندِ اِمام احمد بن حنبل ج ۱ص۱۳۷ حدیث۴۴۱)

   حضرتِ سیِّدُنا عُثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ایک بار وُضو کرتے ہوئے مُسکرانے لگے ! لوگوں نے وجہ پوچھی تو فرمانے لگے : میں نے ایک مرتبہ سرکارِ نامدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اسی جگہ پر وُضو فرمانے کے بعد مسکراتے ہوئے دیکھا تھا ۔   (اَیضاً ص۱۳۰حدیث۴۱۵ مُلَخّصاً)

وُضو کرکے خَنداں ہوئے شاہِ عثماں                       کہا :  کیوں تَبسُّم بھلا کررہا ہوں ؟

جوابِ سُوالِ مُخاطَب دیا پھر                              کسی کی ادا کو ادا کررہا ہوں

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

غذا میں مثالی سادگی

      حضرتِ سیِّدُناشُرَ حْبِیْل بن مسلم  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ امیرُالْمُؤمِنِین، حضرت سیِّدُناعثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ لوگوں کو امیر وں والا کھانا کھلاتے اور خود گھر جا کر سرکہ اورزیتو ن پر گزارہ کرتے ۔ (اَلزُّہْد  لِلامام اَحمد ص۱۵۵ حدیث۶۸۴)

کبھی سیدھا ہاتھ شَرْمْ گاہ کو نہیں لگایا

            امیرُالْمُؤمِنِین، حضرت سیِّدُناعثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : جس ہاتھ سے میں نے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دستِ مبارک پر بَیْعَت کی وہ(یعنی سیدھا ہاتھ ) پھر میں نے کبھی بھی اپنی شَرْمْ گاہ کو نہیں لگایا ۔  ( ابن ماجہ ج۱ ص۱۹۸حدیث۳۱۱)

    حضرتِ سیِّدُناعثمانِ  غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! میں نے نہ توزمانۂ جاہِلیّت میں کبھی بدکاری کی اورنہ ہی اسلام قَبول کرنے کے بعد ۔   (حلیۃُ الاولیاء ج۱ص۹۹)

بند کمرے میں بھی نِرالی شَرْم و حیا

     حضر تِ سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی نے امیرُالْمُؤمِنِینحضرت سیِّدُنا عُثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی شرم و حیا کی شدّت بیان کرتے ہوئے فرمایا : ’’ اگر آپ عَزَّوَجَلَّ  کسی کمرے میں ہوں اوراُس کا دروازہ بھی بند ہو تب بھی نہانے کے لئے کپڑے نہ اتارتے اورحیا کی وجہ سے کمر سیدھی نہ کرتے تھے ۔ ‘‘        (حِلْیۃُ الاولیاء ج ۱ ص ۹۴ حدیث ۱۵۹)

ہمیشہ روزے رکھا کرتے

            امیرُالْمُؤمِنِین، حضرتِ سیِّدُناعُثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہمیشہ نفلی روزے رکھتے  اور رات کے ابتِدائی حصّے میں آرام فرماکربقیّہ رات قِیام (یعنی عبادت) کرتے تھے ۔ (مُصَنَّف ابن اَبی شَیْبہ ج۲ص۱۷۳)

خادم کو زحمت نہیں دیتے

            آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی تو اضع (یعنی عاجزی) کا یہ حال تھا کہ رات کو تہجُّد کے لیے اٹھتے اور کوئی بیدار نہ ہواہوتا تو خود ہی وُضو کا سامان کر لیتے اور کسی کو جگا کر اس کی نیند میں خلَل انداز نہ ہوتے ۔ چُنانچِہ امیرُالْمُؤمِنِینحضرت سیِّدُناعثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جب رات  تہجُّد کے لیے اٹھتے تو وُضُو کا پانی خود لے لیتے تھے ۔  عرض کی گئی :  آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کیوں زَحْمت اٹھاتے ہیں خادم کو حکم فرما دیا کریں ۔ فرمایا :  نہیں رات اُن کی ہے اِس میں آرام کرتے ہیں ۔ (ابنِ عَساکِر ج۳۹ص۲۳۶)

لکڑیوں کا گٹّھا اُٹھائے چلے آرہے تھے !

              امیرُالْمُؤمِنِین، حضرتِ سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ایک موقع پرا پنے باغ  میں سے لکڑیوں کا گٹھااٹھائے چلے آرہے تھے حالانکہ کئی غلام بھی موجود تھے ۔  کسی نے عرض کی :  آپ نے یہ گٹھا اپنے غلام سے کیوں نہ اُٹھوالیا؟ فرمایا :  اُٹھواتو سکتا تھا لیکن میں اپنے نفس کو آزمارہاہوں کہ وہ اس سے عاجِز تو نہیں یا اسے ناپسند تو نہیں کرتا!      (اَللُّمع ص۱۷۷)

میں نے تیرا کان مَروڑا تھا

          حضرت ِسیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے ایک غلام سے فرمایا : میں نے  ایک مرتبہ تیرا کان مَروڑا تھا اِس لئے تو مجھ سے اُس کا بدلہ لے لے ۔   (الرِّیا ضُ النَّضرۃ، ج ۳ ص۴۵)

قَبر دیکھ کر سیِّدُ نا عثمانِ غنی گریہ وزاری فرماتے

       امیرُالْمُؤمِنِین ، جامعُ القراٰن ، حضرتِ سیِّدُنا عثمان ابنِ عفّان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَطْعی جنَّتی ہونے کے باوُجُود بھی  قَبْر کی زِیارت کے موقع پر آنسو روک نہ سکتے تھے چُنانچِہ دعوتِ اسلامی کے اِشاعَتی اِدارے مکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ695صَفْحات پر مشتمل کتاب ’’ اللّٰہ والوں کی باتیں ‘‘ (جلد اوّل) کیصَفحَہ 139پر ہے  : امیرُالْمُؤمِنِین، حضرت سیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جب کسی  قَبْر کے پاس کھڑے ہوتے تواِس قَدَر روتے کہ آنسوؤں سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی رِیش(یعنی داڑھی) مبارَک تَر ہو جاتی ۔   ( تِرمِذی ج۴ ص۱۳۸ حدیث ۲۳۱۵)

...... تو میں یہ پسند کروں گا کہ راکھ ہوجاؤں

          حضرت ِسیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : ’’ اگرمجھے جنّت و دوزخ کے درمیان کھڑا کیا جائے لیکن مجھے یہ نہ پتاہو کہ مجھے کس طرف جانے کا حکم ہو گا تو میں یہ پسند کروں گاکہ



Total Pages: 9

Go To