Book Name:Bunyadi Aqaid Aur Mamolat e Ahlesunnat

جواب :  کسی صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے  بدعقیدگی یا کسی کی شان میں بد گوئی کرنا انتہائی درجہ کی بدنصیبی اور گمراہی ہے  ۔وہ فِرقہ نہایت بد بخت اور بد دین ہے  جو صحابہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ پر لَعن طَعن یعنی بُرا بھلا کہنے  کو اپنا مذہب بنائے  ان کی دشمنی کو ثواب کا ذریعہ سمجھے  ۔صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی بڑی شان ہے ، ان کی تکلیف سے  حضور صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم کو ایذا ہوتی ہے ۔

سوال :  صحابی کسے  کہتے  ہیں؟

جواب :  جس نے  ایمان کی حالت میں نبی اکرم صَلَّى اللهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَاٰلِهٖ وَسَلَّم کو دیکھا ہواور ایمان ہی کی حالت میں اس کا انتقال ہوا ہووہ صحابی ہے ۔

سوال : کیا کوئی مسلمان عبادت و ریاضت کرکے  کسی صحابی کے  مَرتبہ کو پہنچ سکتا ہے ؟

جواب : کوئی ولی، کوئی غوث، کوئی قُطب چاہے  کتنی ہی عبادت کرلے  مرتبہ میں کسی صحابی کے  برابر نہیں ہو سکتا۔

٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭۔۔۔٭

اولیاءُ اللہ رَحِمَہُمُ اللہ

سوال : اولیاء اللّٰہ رَحِمَہُمُ اللّٰہ کسے  کہتے  ہیں؟

     جواب :  اللّٰہ کے  وہ مقبول بندے  جو اس کی ذات و صفات کی معرفت رکھتےہوں، اس کی اطاعت و عبادت کے  پابند رہیں، گناہوں سے  بچیں ، انہیں اللّٰہ تعالیٰ اپنے  فضل و کرم سے  اپنا قربِ خاص عطا فرمائے  ان کو’’اولیاء اللّٰہ ‘‘کہتے  ہیں۔

سوال : ولایت کیسے  حاصل ہوسکتی ہے ؟

جواب : ولایت یعنی اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ کا مُقرّب و مقبول بندہ ہونا محض اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ کا عطیہ ہے  جو کہ مولیٰ کریم عَزَّ  وَجَلَّ اپنے  برگزیدہ بندوں کو اپنے  فضل و کرم سے  نوازتا ہے  ۔ہاں عبادت و ریاضت بھی کبھی کبھی اس کا ذریعہ بن جاتی ہے  اور بعضوں کو ابتداءً بھی مل جاتی ہے ۔

سوال : کیا بے  علم بھی ولی بن سکتا ہے ؟

جواب : نہیں ، ولایت بے  علم کو نہیں ملتی ۔ولی کے  لئے  علم ضروری ہے  خواہ ظاہر حاصل کرے  یا اس مرتبہ تک پہنچنے  سے  پہلے  ہی اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کا سینہ کھول دے  اور وہ عالِم بن جائے ۔

سوال : اگر کوئی شخص شریعت پر عمل نہ کرے  تو کیا وہ ولی بن سکتا ہے  ؟

جواب :  جب تک عقل سلامت ہے  کوئی کیسے  ہی بڑے  مرتبے  کا ہو احکامِ شریعت کی پابندی سے  ہرگز آزاد نہیں ہوسکتا اور جو خود کو شریعت سے  آزاد سمجھے  ولی نہیں۔

سوال : جو ایسے  شخص کو ولی سمجھے ، اس کے  بارے  میں کیا حکم ہے ؟

جواب : وہ گمراہ ہے ۔

سوال : اولیاءِ کرام کیا کچھ کرسکتے  ہیں؟

جواب :  اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عطا سے  اولیاءِ کرام بہت کچھ کرسکتے  ہیں، ان سے  عجیب و غریب کرامتیں ظاہر ہوتی ہیں مثلاً آن کی آن میں مشرق سے  مغرب میں پہنچ جانا، پانی پر چلنا، ہوامیں اُڑنا، جمادات یعنی بے  جان چیزوں اور حیوانات سے  کلام کرنا، بلاؤں اور مصیبتوں کو ٹالنا، دور دراز کے  حالات ان پرظاہر ہونا ۔اولیاء کی کرامتیں درحقیقت ان انبیا ء عَـلَـيْهِمُ الصَّلٰوۃُ  وَ السَّلَام کے  معجزات ہیں جن کے  وہ اُمّتی ہوں۔

سوال : کرامت کسے  کہتے  ہیں؟

جواب : اولیاء اللّٰہ سے  جو بات خلافِ عادت ظاہر ہو اسے ’’کرامت‘‘کہتے  ہیں۔

سوال : کیا ولی وہی ہے  جس سے  کرامت ظاہرہو؟

جواب :  اکثراولیاءِ کرام سے  کرامات ظاہر ہوتی ہیں ، اولیاءِ کرام اپنی ولایت اور کرامات کو چھپاتے  ہیں ، ہاں جب اللّٰہ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف سے  حکم پاتے  ہیں تو ظاہر کردیتے  ہیں ۔اس کامطلب یہ ہرگز نہیں کہ جس سے  کرامت ظاہر نہ ہو وہ ولی ہی نہیں۔

سوال : کیا کسی ولی سے  بعدِ وصال بھی کرامت ظاہر ہوسکتی ہے ؟

 



Total Pages: 50

Go To