Book Name:Sirat ul Jinan Jild-8

پارہ نمبر…22

وَ مَنْ یَّقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِهَاۤ اَجْرَهَا مَرَّتَیْنِۙ-وَ اَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِیْمًا(۳۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جو تم میں  فرماں  بردار رہے اللہ اور رسول کی اور اچھا کام کرے ہم اسے اوروں  سے دُونا ثواب دیں  گے اور ہم نے اس کے لیے عزت کی روزی تیار کر رکھی ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو تم میں  اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبردار رہے اور اچھے عمل کرے توہم اسے دوسروں  سے دگنا ثواب دیں  گے اور ہم نے اس کے لیے عزت کی روزی تیار کر رکھی ہے۔

{وَ مَنْ یَّقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ: اور جو تم میں  اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبردار رہے۔} یعنی اے میرے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اَزواجِ مُطَہّرات! تم میں  سے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی فرمانبردار رہے تو اسے ہم دوسروں  سے دگنا ثواب دیں  گے کہ اگر اوروں  کو ایک نیکی پردس گُنا ثواب دیاجائے گا تو تمہیں  بیس گنا کیونکہ تمام جہان کی عورتوں  میں  تمہیں  شرف و فضیلت حاصل ہے اور تمہارے عمل میں  بھی دو جہتیں  ہیں  ایک نیک کام کرنا، دوسری رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رضا جوئی، قناعت اوراچھے طرزِ زندگی کے ساتھ حضورِاقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو خوش کرنا اور ہم نے اس زوجہ ِمُطَہَّرہ کے لئے جنت میں  عزت کی روزی تیار کر رکھی ہے۔(ابو سعود، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۳۱، ۴ / ۳۱۹)

اَزواجِ مُطَہّراترَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کا مقام :

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ازواجِ مُطَہّرات کو عام عورتوں  پر بڑی فضیلت حاصل ہے اور انہیں  ان کے نیک عمل پر دگنا اجر و ثواب دیا جاتا ہے ۔حضرت ابوامامہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے فرمان کا خلاصہ ہے کہ چارقسم کے لوگ ایسے ہیں  جنہیں  دگنااجردیاجاتاہے، ان میں  سے ایک رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اَزواجِ مُطَہّرات بھی ہیں  ۔( مجمع الزوائد، کتاب النکاح، باب فی الذی یعتق امَتہ ثمّ یتزوّجہا، ۴ / ۴۷۷، الحدیث: ۷۳۵۱)

عزت کی روزی در حقیقت جنت کی نعمتیں  ہیں :

            اس آیت سے معلوم ہو اکہ حقیقی طور پر عزت کی روزی جنت کی نعمتیں  ہیں  ۔لہٰذا جو مسلمان اس روزی کو پانا چاہتا ہے تو اسے چاہئے کہ نیک اعمال کرے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

’’فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ‘‘(حج:۵۰)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو جو لوگ ایمان لائے اورانہوں  نے نیک اعمال کئے ان کے لیے بخشش اور عزت کی روزی ہے۔

            اور قیامت قائم کرنے کی حکمت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے :

’’لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِؕ-اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ‘‘(سبا:۴)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تاکہ اللہ ایمان لانے والوں  اور اچھے اعمال کرنے والوں  کو بدلہ دے ،ان کے لیے بخشش اور عزت کی روزی ہے۔

            اللہ تعالیٰ ہمیں  کثرت سے نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے کرم سے بخشش و مغفرت اور جنت کی نعمتیں  نصیب فرمائے ،اٰمین۔

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاۚ(۳۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اے نبی کی بیبیوتم اَور عورتوں  کی طرح نہیں  ہو اگر اللہ سے ڈرو تو بات میں  ایسی نرمی نہ کرو کہ دل کا روگی کچھ لالچ کرے ہاں  اچھی بات کہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے نبی کی بیویو!تم اور عورتوں  جیسی نہیں  ہو۔اگرتم اللہ سے ڈرتی ہو تو بات کرنے میں  ایسی نرمی نہ کرو کہ دل کا مریض آدمی کچھ لالچ کرے اورتم اچھی بات کہو۔

{یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ: اے نبی کی بیویو!تم اور عورتوں  جیسی نہیں  ہو۔} یعنی اے میرے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بیویو! تم فضیلت اور شرف میں  اور عورتوں  جیسی نہیں  ہو کیونکہ تم سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اَزواج اور تمام مومنوں  کی مائیں  ہو اورتمہیں  میرے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے خاص قرب حاصل ہے اور جب تمہاری قدر اتنی اعلیٰ اورتمہارا رتبہ اتنا عظیم ہے تو یہ بات تمہاری شان کے لائق نہیں  کہ تم دنیا کی زینت اور آرائش کا مطالبہ کرو۔(روح البیان،الاحزاب،تحت الآیۃ:۳۲، ۷ / ۱۶۹، تفسیر کبیر، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۳۲، ۹ / ۱۶۷، صاوی، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۳۲، ۵ / ۱۶۳۷، ملتقطاً)

            حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا اس آیت کی تفسیر میں  فرماتے ہیں  ’’اس سے مراد یہ ہے کہ (اے میرے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ازواجِ مُطَہَّرات!) میری بارگاہ میں  تمہاری قدر دوسری نیک خواتین کی قدر جیسی نہیں  ہے بلکہ تم میری بارگاہ میں  زیادہ عزت والی ہو اور میرے نزدیک تمہارا ثواب زیادہ ہے۔( خازن، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۳۲، ۳ / ۴۹۸)

اَزواجِ مُطَہَّرات رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنَّ اور زہد و قناعت:

            حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ چاہتے تو انتہائی شاہانہ زندگی گزار سکتے تھے اور اپنی ازواجِ مُطَہَّرات رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کو دنیا کی تما م راحتیں  اور آسائشیں  فراہم کر سکتے تھے، لیکن آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ دنیا، اس کی نعمتوں  اور آسائشوں  کی طرف رغبت نہ رکھتے تھے اور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرما دیا تھا کہ میں  دنیا سے نہیں  ہوں  اور دنیا مجھ سے نہیں  ہے۔( کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، ۲ / ۸۰، الحدیث: ۶۱۲۵، الجزء الثالث) اس لئے آپ کے ساتھ انتہائی قرب رکھنے والوں  کی شان کے لائق بھی یہی تھا کہ وہ بھی دنیا کی طرف راغب نہ ہوں  ،پھر ازواجِ مُطَہَّرات رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنَّ نے دنیا سے بے رغبتی اور زہد و قناعت کا کیسا شاندار مظاہرہ فرمایا ا س کا اندازہ اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ



Total Pages: 220

Go To