Book Name:Islam kay Bunyadi Aqeeday

بادشاہت والی جمع کہتے ہیں ۔)

          سارے قرآن میں جگہ بہ جگہ اللّٰہ تعالیٰ کی توحید پر تاکیدیں موجود ہیں ،  اس کی واضح مثال اس چھوٹی سی سورت ِمبارکہ میں دیکھی جاسکتی ہے:

قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌۚ (۱) اَللّٰهُ الصَّمَدُۚ (۲) لَمْ یَلِدْ ﳔ وَ لَمْ یُوْلَدْۙ (۳) وَ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ كُفُوًا اَحَدٌ۠ (۴)    (پ۳۰،  سورۃ الاخلاص)

ترجمۂ کنزالایمان:  تم فرماؤ وہ اللّٰہ ہے وہ ایک ہے اللّٰہ بے نیاز ہے نہ اس کی کوئی اولاد اور نہ وہ کسی سے پیدا ہوا اور نہ اس کے جوڑ کا کوئی۔

 سوال:  قرآن کہتا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ رحم کرنے والا ہے اور وہ سخت عذاب بھی دیتا ہے تو یہ دونوں باتیں ایک ساتھ کیسے درست ہوسکتیں ہیں ،  یا تو وہ معاف کرنے والا ہے یا سزا دینے والا ہے؟

جواب:  قرآن پاک میں کئی جگہوں پر اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت کا ذِکر موجود ہے درحقیقت سوائے ایک کے قرآن کی ساری سورتیں  ’’  بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ‘‘ سے شروع ہوتی ہیں ،  اس کا مطلب ہے  ’’  اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔ ‘‘  

          رحمن اور رحیم دونوں الفاظ عربی گرامر کے اعتبار سے مبالغہ کے صیغے ہیں ،  رحمن کا معنی ہے:   ’’ ساری مخلوق پر رحم فرمانے والا‘‘  اور انصاف کرنا اس کی رحمت کا حصہ ہے،  رحیم کا معنی ہے:  ’’  خاص کر ایمان والوں پر رحم فرمانے والا ‘‘  اور معاف کردینا بھی اُس کی رحمت کا حصہ ہے۔

          ان دونوں صفات کے اکٹھے استعمال سے بڑا جامع اور کامل معنی حاصل ہوتا ہے،  معاف کرنا اور انصاف کرنا یہ سب اس کی رحمت ہے،  مزید یہ کہ اللّٰہ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں ستر سے زیادہ جگہوں پر اپنی رحمت اور معافی کا ذکر کیاہے،  اللّٰہ تعالیٰ بار بار اپنی رحمت و مغفرت کی ہمیں یاد دلاتا ہے:

وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (۲۱۸)    (پ۲،  البقرۃ:  ۲۱۸)

ترجمۂ کنزالایمان:   اور اللّٰہ بخشنے والا مہربان ہے۔

          ہاں جو اس کے عذاب کے مستحق ہیں اُن کو وہ سخت عذاب بھی دیتا ہے،  اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے محبوب حضرت محمدصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے فرمایا:  

نَبِّئْ عِبَادِیْۤ اَنِّیْۤ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُۙ (۴۹) وَ اَنَّ عَذَابِیْ هُوَ الْعَذَابُ الْاَلِیْمُ (۵۰)   (پ۱۴،  الحجر:  ۴۹، ۵۰)

ترجمۂ کنزالایمان:  خبردو میرے بندوں کو کہ بے شک میں ہی ہوں بخشنے والا مہربان اور میرا ہی عذاب دردناک عذاب ہے۔

          اللّٰہ تعالیٰ انصاف فرمانے والا ہے اور یہ بات انصاف کو لازم ہے کہ وہ اُن کو انعام دے جو اس کا حکم مانے اور اُن کو سزادے جو اس کی نافرمانی اور بغاوت کرے،  اگر اللّٰہ تعالیٰ کسی مجرم کو سزا دے تو یہ اس کا عدل اور انصاف ہوگا اور اگر وہ کسی مجرم کو معاف فرما دے تو یہ اس کی رحمت،  فضل اور معافی ہوگی،  اللّٰہ جو کہ رحمن و رحیم ہے،  اُن سب کو معاف فرمادیتا ہے جو توبہ کرتے ہیں اور زندگی کے کسی حصے میں بھی اپنی اصلاح کرلیتے ہیں ،  اُس نے انسانوں کو اپنی کثیر معافی اور رحمت کی طرف دعوت دی ہے:

 قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًاؕ-اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ (۵۳) وَ اَنِیْبُوْۤا اِلٰى رَبِّكُمْ وَ اَسْلِمُوْا لَهٗ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ (۵۴) وَ اتَّبِعُوْۤا اَحْسَنَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَكُمُ الْعَذَابُ بَغْتَةً وَّ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَۙ (۵۵)   (پ۲۴،  الزمر:  ۵۳ تا۵۵)

 



Total Pages: 55

Go To