Book Name:Ishq e Rasool

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط                                                                                         

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط                                                              

عشقِ رسول ([1])

درود شریف کی فضیلت

نبیِ رحمت، شفیعِ  امت  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ رحمت ہے : جو کوئی مجھ پر ایک مرتبہ دُرودِ پاک پڑھتا ہے اللہ عَزَّ  وَجَلّ    َ  اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے، اس کے دس گناہ مٹا دئیے جاتے ہیں اور دس درجات بلند کردئیے جاتےہیں۔ ([2])

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                                                صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

آزادی ٹھکرانے والا غلام

اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدتُنا خدیجہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر  صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمسے نکاح کے بعد اپنے غلام حضرت سیِّدُنا زید بن حارِثَہ  رَضِیَ   اللّٰہُ   تَعَالٰی    عَنْہ کوپیارےآقا صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خِدْمت میں بطورِ تحفہ پیش کردیا، ایک بار ان کے والد اور چچا فِدیہ کی رقم لے کر ان کو غلامی سے چھڑانے کی خاطر مکۂ مکرّمہ آئے اور حُسنِ اَخلاق کے پیکر، مَحبوبِ رَبِّ اَکبر صَلَّی اللّٰہ تعالٰی  علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی خِدْمت میں حاضر ہو کر عرض کی : اے عبدُ المطلب کی اولاد اور سردارِ قوم کے بیٹے!آپ حرمِ پاک کے رہنے والے ہیں، قیدیوں کورہا کراتے اور انہیں کھاناکھلاتے ہیں۔ہمارا بیٹا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمکا غلام ہے اور ہم اسی کے سلسلے میں آپ کے پا س حاضر ہوئے ہیں ہم پر احسان فرماتے ہوئے فِدیہ قبول کریں اور اس کو رِہا کردیں بلکہ جو فدیہ ہو اس سے زِیادہ لے لیں۔محسنِ کائنات، فخر موجودات صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نےارشاد فرمایا : اگر یہی بات ہے تو اس کو بلاؤ اور اسی کو اختیار دے دو، اگر وہ تمہارے ساتھ جانا چاہے تو فدیہ دیئے بغیر اسے لے جاسکتے ہو اور اگر وہ میرے پاس رہنا پسند کرےتو بخدا جو مجھے پسند کرے میں اس کے بدلے فدیہ پسند نہیں کروں گا۔اُنہوں نے خوش ہوکر عرض کی : آپ صَلَّی  اللّٰہ  تعالٰی   علیہ   واٰلہ ٖ وسلَّم نے ہمارے ساتھ بہت انصاف فرمایاہے۔اس کے بعد نبیِ اَکْرم، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بلایا اور پوچھا : کیا تم ان دونوں کو پہچانتے ہو؟عرض کی : جی ہاں! یہ میرے والد اور چچا ہیں۔سردارِ دوجہان، رحْمتِ عالمیان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا :  تم یہ بھی جانتے ہو کہ میں کون ہوں اور میری صحبت بھی ملاحظہ کرچکے ہو ، اب تمہیں اِختیار ہے، چاہو تو میرے پاس رہ جاؤ اور چاہو تو ان کے ساتھچلے جاؤ۔   

سَیِّدُنا زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی : حُضُور!میں آپ کے مقابلے میںبھلا کس کو اختیار کر سکتا ہوں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم میرے لئے باپ کی جگہ بھی ہیں اور چچا کی جگہ بھی ۔ان کے والد اور چچا نے کہا :  زید !بڑے افسوس کی بات ہے، کیا تم غلامی کو آزادی پر ترجیح دوگے…؟کیا باپ ، چچا اور سب گھر والوں کو چھوڑ کر غلام رہنا پسند کرو گے؟حضرت زیدرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے (حُضُور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام     کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) کہا : میں نے ان میں ایسی خوبی دیکھی ہے کہ میں ان کے مقابلے میں کسی کو بھی پسند نہیں کرسکتا۔جب حُضُورِ اکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے یہ جواب سنا تو زید بن حارثہ رَضِیَ   اللّٰہُ   تَعَالٰی    عَنْہ  کو حطیمِ کعبہ کے پاس لائے اور وہاں موجود لوگوں کے سامنے فرمایا : گواہ ہوجاؤکہ زیدمیرا بیٹاہے۔حضرت زید رَضِیَ    اللّٰہ   ُ تَعَالٰی     عَنْہ  کے والد اور چچا نے یہ منظر دیکھا تو بہت خُوش ہوئے اور انہیں پیارے آقا، مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے  پاس  ہی چھوڑ کر چلے گئے۔ ([3])

جنت بھی لینے آئے تو چھوڑیں نہ یہ گلی

    مونھ پھیر بیٹھیں ہم تری دیوار کی طرف       (ذوقِ نعت، ص۹۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                                                صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے کہ حضرت سیِّدُنا زید بن حارثہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے بے چین دلوں کے چَین، رَحْمتِ کونین صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم     سے بے پناہ محبت کے سبب آپ سے جدائی اور دوری گوارا نہ کی اور  اپنے اہْلِ خانہ  اور عزیز و اَقارب کے بجائے پیارے آقا مدینے والے مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی قربت وصحبت اختیار کرنے ہی کو ترجیح دی کیونکہ محبتِ رسول ہے ہی ایسی انمول نعمت کہ جسے نصیب ہوجائے اسے دنیا کی کسی بھی چیز کی طلب نہیں رہتی۔ صرف  زيد بن حارثہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ      ہی نہیں بلکہ سبھی

Total Pages: 14

Go To