Book Name:Zakhmi Sanp

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

زخمی سانپ

 

شیطٰن لاکھ سُستی دلائے مگر آپ یہ رسالہ  (20صفحات) مکمَّل پڑھ لیجئے اور اس کی بَرَکتیں حاصِل کیجئے۔ 

دُرُود شریف کی فضیلت

               دو جہاں کے سلطان ، سَرورِ ذیشان ، مَحبوبِ رَحمٰن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ مغفِرت نِشان ہے: مجھ پر دُرُودِپاک پڑھنا پُلْ صِراط پر نور ہے جو روزِ جُمُعہ مجھ پر اَسّی بار دُرُودِپاک پڑھے اُس کے اَسّی سال کے گناہ مُعاف ہوجائیں گے۔     (اَلْفِرْدَوْس بمأثور الْخِطاب ج۲ص۴۰۸ حدیث۳۸۱۴)  

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

   حضرتِ سیِّدُناابوسعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :  ایک نوجوان صَحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی نئی نئی شادی ہوئی تھی ۔   ایک بار جب وہ اپنے گھر تشریف لائے تو دیکھا کہ اُن کی دُلہن گھر کے دروازے پر کھڑی ہے،  مارے جلال کے نیزہ تان کر اپنی دُلہن کی طرفلپکے ۔ وہ گھبرا کر پیچھے ہٹ گئی اور ( رو کر)  پکاری: میرے سرتاج! مجھے مت ماریئے، میں بے قُصُور ہوں،  ذرا گھر کے اندر چل کر دیکھئے کہ کس چیز نے مجھے باہَر نکالا ہے !  چُنانچِہ وہ صَحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اندر تشریف لے گئے ، کیا دیکھتے ہیں کہ ایک خطر ناک زَہریلا سانپ کُنڈلی مارے بچھونے پر بیٹھا ہے۔   بے قر ار ہو کر سانپ پر وار کرکے اس کو نیزے میں پِرَو لیا ۔   سانپ نے تڑپ کر اُن کو ڈس لیا ۔  زخمی سانپ تڑپ تڑپ کر مر گیا اور وہ غیرت مند صَحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بھی سانپ کے زَہر کے اثر سے جامِ شہادت نوش کر گئے۔  (مُسلِم ص۱۲۲۸حدیث۲۲۳۶مُلَخَّصاً )   

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!      صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

غیر ت منداسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے ؟  ہمارے صَحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکس قدر بامُرَوَّت ہوا کرتے تھے ۔   انہیں یہ تک بھی منظور نہ تھا کہ ان کے گھر کی عورت گھر کے دروازے یا کھڑکی میں کھڑی رہے ۔   اپنی زَوجہ کو بنا سنوار کر بے پردَگی کے ساتھ شادی ہال میں لے جانے والوں،  بے پردَگی کے ساتھ اسکوٹر پر پیچھے بٹھا کر پھرانے والوں ، شاپنگ سینٹروں اوربازاروں میں ےپردَگی کے ساتھ خریداری سے نہ روکنے والوں کیلئے عبرت ہی عبرت ہے۔  

 عورت خُوشبو لگا کرباہَر نہ نکلے

          مصطَفٰے جانِ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں :  بے شک جو عورت خوشبو لگا کر مجلس کے پاس سے گزرے تو وہ ایسی ایسی ہے یعنی زانیہ ہے ۔ (تِرمِذی ج۴ص۳۶۱حدیث۲۷۹۵)

    مُفَسّرِشہیر، حکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان اس حدیثِ پاک کے تَحْت فرماتے ہیں:  کیونکہ وہ اس خوشبو کے ذَرِیعہ لوگوں کو اپنی طرف مائل کرتی ہے چُونکہ اسلام نے زِنا کو حرام کیا اس لئے زِنا کے اَسباب سے  (بھی)  روکا (ہے) ۔    (مراٰۃ المناجیح  ج۲ص۱۷۲)

بے پرد گی کی ہولناک سزا

             حضرتِ سیِّدُنا اِمام احمدبن حَجَرمَکِّی شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی نَقْل فرماتے ہیں:  مِعراج کی رات سرورِکائنات ، شاہ ِموجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جو بعض عورَتوں کے عذاب کے ہولناک مَناظِرمُلاحظہ فرمائے ان میں یہ بھی تھا کہ ایک عورت بالوں سے لٹکی ہوئی تھی اور اس کا دِماغ کھول رہا تھا ۔   سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خد متِ سراپا شفقت میں عَرْض کی گئی کہ یہ عورت اپنے بالوں کو غَیر مَردوں سے نہیں چُھپاتی تھی۔     (الزّوَاجِرُ عَنِ اقْتِرَافِ الْکَبَائِر ج۲ص۹۷۔  ۹۸مُلَخَّصاً

 



Total Pages: 8

Go To