$header_html

Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

۷۶۔     تہذیب  التہذیب لا بن حجر،                                                  ۲/۱۱۹

جنکو مکثرین صحابہ میں شمارکیاجاتاہے یعنی جن سے ایک ہزارسے زائد احادیث روایت کی گئی

ہیں ۔ انکی تفصیل یوں بیان کی جاتی ہے ۔

 ۱۔   حضرت ابو ہریرہ                              ۵۳۷۴

۲۔    حضرت عبداللہ بن عمر                        ۲۶۳۰

۳۔    حضرت انس بن مالک                         ۲۲۸۶

 ۴۔    ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ                 ۲۲۱۰

 ۵۔    حضرت عبداللہ بن عباس                             ۱۶۶۰

 ۶۔   حضرت جابر بن عبداللہ                        ۱۵۴۰

۷۔     حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہم          ۱۱۷۰

       انکے علاوہ  حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی تعداد حدیث کے بارے میں آپ خود حضرت ابو ہریرہ کا فرمان پڑھ چکے کہ مجھ سے زیادہ احادیث حضرت ابن عمرو کی ہیں ۔اس طرح ان حضرات کی مرویات کی تعداد تیئیس ہزار سے زیادہ ہوگی ۔ اور بعض محدثین نے حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو بھی مکثرین میں شمار کیا ہے تو کم از کم دوہزار کے مزید اضافہ سے یہ تعداد پچیس ہزار سے بھی زائد ہوجائیگی ۔اور باقی صحابہ کرام کی روایات علیحدہ رہیں ۔

       ناظرین اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ عہد صحابہ میں تدوین حدیث کس منزل میں تھی ۔لہذا منکرین کا یہ کہنا کہ احادیث دوسوسال کے بعد ہی صحیفہ قرطاس پر ثبت ہوئیں ،اس سے پہلے فقط حافظوں پرموقوف تھیں یہ حقیقت سے کتنی بعید بات ہے ۔

  اصولی  طور پر کل احادیث کی تعداد    

       اس مقام پر کوئی کہہ سکتاہے کہ اس تعداد میں مکررروایات بھی ہیں تو یہ تعدادگھٹ کر اس سے کافی کم ہوجائیگی ،ہم کہتے ہیں یہ بات مسلم ہے لیکن اسکے ساتھ اس بات کوبھی ملحوظ نظر رکھیں   کہ احادیث کی کل تعداد مختلف سندوں کے اعتبار سے اگرچہ لاکھوں تک پہونچتی ہے جیسا کہ آپ پڑھ چکے کہ ایک ایک محدث کو سات اور



Total Pages: 604

Go To
$footer_html