Book Name:Qoot ul Quloob Jild 1

نعمتوں   کی بشارتیں   دینا اس کے حصے میں   آتا ہے۔ چنانچہ،   قرآنِ کریم میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّنے حضوری و اِنذار کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

فَلَمَّا حَضَرُوْهُ قَالُوْۤا اَنْصِتُوْاۚ-فَلَمَّا قُضِیَ وَ لَّوْا اِلٰى قَوْمِهِمْ مُّنْذِرِیْنَ (۲۹)  (پ۲۶،  الاحقاف:  ۲۹)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: پھر جب وہاں   حاضر ہوئے آپس میں   بولے خاموش رہو پھر جب پڑھنا ہوچکا اپنی قوم کی طرف ڈر سناتے پلٹے۔

            اور ایمان کی زیادتی اور استبشار  (یعنی خوش ہونے)  کا تذکرہ ان آیاتِ بینات میں   کیا:

فَزَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ (۱۲۴)  (پ۱۱،  التوبۃ:  ۱۲۴)

تر جمعہ ٔ کنز الایمان: ان کے ایمان کو اسنے ترقی دی اور وہ خوشیاں   منارہے ہیں  ۔

احادیث وآثار سے  استدلال : 

حضرت سیِّدُنا شیخ ابو طالب مکی عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْقَوِی پائے کے محدث تھے اور آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو روایتِ بخاری کی اجازت بھی حاصل تھی جیسا کہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے شیوخ کے ضمن میں   بیان ہو چکا ہے۔ چنانچہ آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ قوت القلوب میں   درج احایثِ مبارکہ اور اقوال و آثار کے متعلق 31ویں   فصل کے اختتام پر فرماتے ہیں   کہ ”ہم نے اس کتاب میں   سرورِ کائنات،   فخرِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  جو روایات نقل کی ہیں   یا صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ،   تابعین و تبع تابعین عظام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے اقوال ذکر کئے ہیں   وہ سب اپنی قوتِ حافظہ سے  قلم بند کئے ہیں   اور تقریباً تمام آثار و اخبار میں روایت بالمعنٰی ([1]) کا التزام کیا ہے،   مگر بعض روایات ایسی بھی ہیں   جو ہمارے پاس تھیں   یا ان تک ہماری رسائی ممکن تھی تو ہم نے ان میں   الفاظ کا بھی خیال رکھا ہے اور جو ہماری پہنچ سے  دور تھیں   اور ہم انہیں   حاصل بھی نہ کر سکے تو ان کی خاطر زیادہ کوشش بھی نہ کی۔ اب ہم اس سلسلے میں   اگر حق پر ثابت قدم رہے ہیں   تو یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا کردہ بہترین توفیق اور تائید کی بدولت ہے اور اگر اس میں   کوئی خطا ہو گئی ہے تو یہ ہماری غلطی ہے جو غفلت کا نتیجہ ہے۔ یا ہم سے  کہیں   نسیان و عجلت کا مظاہرہ ہوا ہے تو یاد رکھیں   کہ نسیان و عجلت کا مظاہرہ ہمیشہ شیطانی عمل دخل سے  ہوتا ہے۔ لہٰذا ہم بھی وہی کہیں   گے جو حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنی رائے سے  فیصلہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا یعنی ہمارا قول ان کی رائے کے تابع ہے۔ سرکارِ مدینہ،   قرارِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’بیان اور ثابت قدمی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا ہے اور عجلت و نسیان شیطان کی پیداوار ہے۔ ‘‘   ([2])  یعنی عجلت و نسیان کا واسطہ وسبب شیطان ہے اور دوسرا یہ کہ بندے پر اس وقت توفیق کی کمی ہوتی ہے۔  (مزید فرماتے ہیں   کہ)  میں  نے جہاں   کثیر روایات میں   الفاظ کا اہتمام نہیں   کیا تو وہیں   تمام روایات میں   مفہوم و معنی سے  بھی روگردانی نہیں   کی کیونکہ میرے نزدیک الفاظ کا اہتمام لازم و ضروری نہیں   بشرطیکہ جب آپ روایت بالمعنی کریں   تو آپ پر لازم ہے کہ آپ کلام میں   ہونے والی تبدیلی اور مختلف معانی و مفاہیم کے فرق کو بخوبی جانتے ہوں   اور تحریف یا لفظی ہیر پھیر سے  بھی اجتناب کریں  ۔

صحابۂ  کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی ایک جماعتنے بھی روایت بالمعنی میں   رخصت دی ہے۔ ان میں   امیرالمومنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم ،   حضرت سیِّدُنا ابن عباس،   حضرت سیِّدُنا انس بن مالک،   حضرت سیِّدُنا واثلہ بن اسقع اور حضرت سیِّدُنا ابو ہریرہ رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن بھی شامل ہیں  ۔ اور تابعین کی بھی ایک کثیر تعداد روایت بالمعنی کی قائل تھی۔ جن میں   امام الائمہ حضرت سیِّدُنا حسن بصری،   امام شعبی،   عمرو بن دینار،   ابراہیم نخعی،   مجاہد و عکرمہ رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی  جیسے  جلیل القدر بزرگ ہیں  ۔ ہم نے ان کی کتابوں   سے  یہ اخبار و آثار الفاظ کی تبدیلی کے ساتھ نقل کئے ہیں  ۔ چنانچہ حضرت سیِّدُنا امام ابن سیرین عَلَیْہِ رَحمَۃُاللہِ الْمُبِیْن فرماتے ہیں   کہ میں   ایک ہی حدیث دس راویوں   سے  سنتا تو سب کے الفاظ مختلف ہوتے مگر مفہوم ایک ہی ہوتا۔

یہی وجہ ہے کہ سرکارِ ابد قرار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی احادیثِ مبارکہ کی روایت میں   صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے  اختلاف مروی ہے۔ کیونکہ ان میں   سے  بعض کامل روایات بیان کرتے تو بعض مختصر اور بعض صرف معنی و مفہوم کو ہی کافی جانتے اور بعض دو مترادف لفظوں   میں   تغیروتبدل کی وسعت پاتے کہ معنی و مفہوم میں   کوئی تبدیلی پیدا نہ ہو تو ایک لفظ کو دوسرے سے  بدل دیتے ۔ مگر ایسا وہ اپنی خواہش سے  نہ کرتے اور نہ ہی ان کا جھوٹ باندھنے کا کوئی ارادہ ہوتا بلکہ ان سب کا مقصد تو سچ بیان کرنا اور جو سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  سنا اس کا مفہوم بیان کرنا ہوتا۔ پس اس لئے احادیث کی روایت میں   انہوں  نے وسعت سے  کام لیا اور وہ کہا کرتے کہ جھوٹ کا اطلاق اس پر ہوتا ہے جو جان بوجھ کر جھوٹ بولے۔

 (مزید کچھ آگے فرماتے ہیں   کہ)  ہم نے اپنی اس کتاب میں   بعض مرسل ([3])  اور مقطوع ([4])  روایات بھی ذکر کی ہیں اور بعض ایسی روایات بھی ہیں   جن کی سند میں   کلام کیا گیا ہے۔ مگر یاد رکھیں   کہ ایک مقطوع ومرسل روایت سند کے بعض رایوں   کے لحاظ سے  صحیح بھی ہو سکتی ہے بشرطیکہ وہ راوی ائمۂ حدیث ہوں  ۔

اس کے بعد آپ رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ایسی روایات کو قوت القلوب میں   نقل کرنے کی بعض وجوہات ذکر کی ہیں  ۔ پھر آخر میں   اس ساری بحث کو سمیٹتے ہوئے فرماتے ہیں   کہ



[1]     روایت بالمعنٰی سے مراد یہ ہے کہ کسی حدیث یا روایت کو اپنے الفاظ میں  اس طرح بیان کرنا کہ اس کا معنی و مفہوم تبدیل نہ ہو۔

[2]     مسند ابی یعلی، مسند انس بن مالک، الحدیث:۴۲۴۰، ج۳، ص۴۴۳

[3]     وہ حدیث جس کی سند کے آخر سے تابعی کے بعد صحابی کا نام حذف کرکے اسے براہِ راست سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے روایت کیا جائے۔

[4]     وہ حدیث جس کی سند میں  سے کوئی بھی راوی ساقط ہوجائے عموماً اس کا اطلاق اس حدیث پر ہوتاہے جس میں  تابعی سے نیچے درجے کا کوئی شخص صحابی سے روایت کرے۔مثال: رَوٰی عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ الثَّوْرِيِّ عَنْ اَبِيْ اِسْحَاقَ عَنْ زَیْدِ بْنِ یُثَیْعٍ عَنْ حُذَیْفَۃَ مَرْفُوْعاً: اِنْ وَلَّیْتُمُوْھَا اَبَا بَکْرٍ فَقَوِيٌ اَمِیْنٌ ۔ اس حدیث کی سند سے ایک راوی ساقط ہے جس کا نام شریک ہے یہ راوی ثوری اور ابو اسحاق کے درمیان سے ساقط ہے کیونکہ ثورینے یہ حدیث ابو اسحاق سے نہیں  سنی بلکہ شریک سے سنی ہے اور شریکنے ابو اسحاق سے۔ (نصاب اصول حدیث، ص۶۲)



Total Pages: 332

Go To