Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 5

3616 -[3]

وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: كَانَ يُؤْتَى بِالشَّارِبِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِمْرَةِ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ فَنَقُومُ عَلَيْهِ بِأَيْدِينَا وَنِعَالِنَا وَأَرْدِيَتِنَا حَتَّى كَانَ آخِرُ إِمْرَةِ عُمَرَ فَجَلَدَ أَرْبَعِينَ حَتَّى إِذَا عَتَوْا وَفَسَقُوا جَلَدَ ثَمَانِينَ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت سائب ابن یزید سے فرماتے ہیں کہ شرابی لایا جاتا تھا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ میں اور حضرت ابو بکر کی امارت اور حضرت عمر کی شروع خلافت میں تو ہم اپنے ہاتھوں اپنے جوتوں اپنی چادروں سے اس پر کھڑے ہوجاتے تھے ۱؎ حتی کہ حضرت عمر کی آخری خلافت آئی تو آپ نے چالیس کوڑے لگوائے ۲؎ یہاں تک کہ جب لوگ سرکش اور بے راہ ہوگئے تو اسی۸۰  کوڑے لگوائے۳؎ (بخاری)

۱؎ یعنی حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے زمانہ مبارک میں اور پوری خلافت صدیقی میں اور خلافت فاروقی کے شروع میں شراب کی سزا مقرر نہ ہوئی تھی ہم اپنی چادر کا کوڑا بنا کر مارتے تھے،کچھ جوتے لگادیتے تھے،کچھ چھڑیاں ماردیتے تھے۔غالبًا یہ سب ملکر بھی چالیس نہ ہوتے تھے جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔

۲؎  اس معلوم ہوتا ہے کہ  اس سے پہلے چالیس کوڑے بھی نہ لگوائے جاتے تھے  ،حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے چالیس مقرر کئے۔

۳؎ یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب یہ ملاحظہ فرمایا کہ اتنی معمولی سزا سے شراب نوشی نہیں رکتی تو  آپ نے اسی۸۰ کوڑے مقرر کئے۔معلوم ہوا کہ نرم سزائیں جرم کی عادت روکنے کے لیے کافی نہیں،یہ حدیث جمہور ائمہ کی دلیل ہے کہ شراب کی سزا اسی۸۰ کوڑے مقرر ہیں،تمام صحابہ نے یہ سزا دیکھی اور کسی نے اعتراض نہ کیا لہذا اس سزا پر صحابہ کرام کا اجماع سکوتی ہوگیا۔بہرحال زمانہ رسالت میں شراب کی سزا ضرور تھی مگر مقرر نہ تھی،پھر چالیس کوڑے عہدصدیقی یا عہدفاروقی میں مقرر ہوئی،پھر آخر عہد فاروقی میں اسی۸۰ کوڑے مقرر ہوئے۔جن روایات میں ہےکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے زمانہ خلافت میں چالیس کوڑے مارے وہ درست نہیں۔مرقات نے اس کی پُرزور تردید فرمائی اور اس روایت کو سخت ضعیف قرار دیا۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

3617 -[4]

عَنْ جَابِرٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ فَإِنْ عَادَ فِي الرَّابِعَةِ فَاقْتُلُوهُ» قَالَ: ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ فِي الرَّابِعَةِ فَضَرَبَهُ وَلَمْ يقْتله. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت جابر سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے روای فرماتے ہیں  کہ جو شراب پی لے تو  اسے کوڑے مارو   اگر پھر لوٹے  تو چوتھی بار میں اسے قتل کردو ۱؎  راوی کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس اس کے بعد وہ شخص لایا گیا جس نے چوتھی بار شراب پی لی تھی آپ نے اسے مارا تو مگر قتل نہ کیا ۲؎(ترمذی)

۱؎ یا تو قتل سے مراد سخت مار ہے یعنی گویا اسے مار ڈالو یا یہ حکم اول اسلام میں تھا پھر منسوخ ہوگیا۔کسی امام کا یہ مذہب نہیں کہ شرابی کی سزا قتل ہے بلکہ اس حدیث کا اگلا جملہ بھی یہ ہی بتارہا ہے کہ قتل کا حکم یا منسوخ ہے یا متأوّل۔(مرقات)اور ہوسکتا ہے کہ یہ قتل تعزیرًا ہو نہ کہ حد کے طور پر کہ اگر قاضی عادی شرابی فسادی کے قتل میں مصلحت دیکھے تو اسے قتل کردے۔

۲؎ اس عمل شریف سے معلوم ہوا کہ حکم قتل یا منسوخ ہے یا وہاں قتل کے معنے سخت مار ہے۔فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مسلمان کا قتل سواء تین جرموں کے اور کسی وجہ سے جائز نہیں ہے:ارتداد،قتلِ عمد،زنا بعداحصان،وہ حدیث بھی اس جملہ کی



Total Pages: 807

Go To