Share this link via
Personality Websites!
479677
9528
اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
قُلْ لَّا یَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَ الطَّیِّبُ وَ لَوْ اَعْجَبَكَ كَثْرَةُ الْخَبِیْثِۚ- (پارہ:7، سورۂ مَائِدَہ:100)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْاِیمان:تم فرمادو کہ ستھرا اور گندہ برابر نہیں اگرچہ تجھے گندے کی کثرت بھائے۔
مثلاً بظاہِر مال زیادہ ہو تو دِل کو بہت بھاتا ہے، دِل اس کی جانِب کھنچتا ہے، کسی کی بَڑی کَوٹھی دیکھ کر، بنگلہ دیکھ کر، بڑی گاڑی دیکھ کر، کروڑوں کے بینک بیلنس(Bank balance) کا سُن کر بعضوں کے دِل میں حَسَرت ضرور پیدا ہو جاتی ہے مگر یاد رکھو...!! پاک اور ناپاک، حلال اور حرام، دونوں بَرَابر نہیں ہیں۔ حرام میں کَثْرت ہو سکتی ہے، بَرَکت نہیں ہو سکتی، اسی طرح حلال میں چاہے کَثْرت ہویا نہ ہو، اس میں بَرَکت ضرور ہوتی ہے۔
لہٰذا کَثْرت کے پیچھے مت بھاگیے! بَرَکت کے طلبگار بنیے! *.مال تھوڑا ہو، بَرَکت والا ہو، اس زیادہ سے بہتر ہے، جس میں بَرَکت موجود نہ ہو *.بیٹا ایک ہو مگر نیک ہو، اُن زیادہ بیٹوں سے بہتر ہے، جو نیک اور فرمانبردار نہ ہوں *.گھر چھوٹا ہو مگر خوشیوں بَھرا ہو، سُکون بَھرا ہو، اُس بڑے محلّ سے بہتر ہے جس میں سکون اور خوشیاں موجود نہ ہوں۔ لہٰذا کَثْرت نہیں، بَرَکت ڈھونڈئیے!
پیارے اسلامی بھائیو! اب سُوال یہ ہے کہ بَرَکت ملتی کہاں سے ہے؟ کیسے ملتی ہے؟ آئیے! بَرَکت پانے کے کچھ طریقے سنتے ہیں:
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami