Share this link via
Personality Websites!
479676
9528
پیارے اسلامی بھائیو! بَرَکت کسے کہتے ہیں؟ ہمارے ہاں عام طَور پر لوگ کسی چیز کے بَڑھ جانے کو بَرَکت سمجھتے ہیں *.مثلاً؛ پہلے غریب تھے، اب مال زیادہ ہو گیا تو اسے مال میں بَرَکت سمجھا جاتا ہے *.پہلے ایک دُکان تھی، اب کئی شہروں میں شاخیں کھول لِیں، اسے بَرَکتکا نام دیا جاتا ہے *.پہلے لَکھ پتی(Millionaire) تھے، اب اَرَب پتی(Billionaire) ہو گئے، اسے بَرَکت سمجھا جاتا ہے۔ یُوں کسی چیز کی کَثْرت کو لوگ بَرَکت کا نام دے دیتےہیں۔
سنیے! بَرَکت کا معنیٰ ہے: خیر کا بیٹھ جانا۔ مثلاً کسی چیز میں فائدہ آیا، خیر آئی اور وہیں جَمْ گئی، یعنی خیر کے جَمْ جانے کو بَرَکت کہا جاتا ہے۔ کَثْرت اور بَرَکت میں بڑا فرق ہے۔ چیز تھوڑی ہو مگر نہ خُود ختم ہو، نہ اُس کا فائدہ ختم ہو یہ بَرَکت ہے۔جبکہ صِرْف چیز کی زیادتی ہو، اس میں فائدہ ہو یا نہ ہو، اسے کَثْرت کہا جاتا ہے۔ ([1])
مثلاً؛ *اللہ پاک نے مال تو بہت زیادہ عطا فرمایا ہے مگر *.کبھی چوری ہوجاتی ہے *.کچھ بیماریوں، دواؤں پر لگ جاتا ہے *.کچھ فضولیات میں صَرْف ہو جاتا ہے، کماتے بہت ہیں، آتا بھی بہت ہے، اس کے باوُجُود پُوری نہیں پڑتی، اَخْراجات پُورے نہیں ہوتے۔ یہ محض کَثْرت ہے۔ جبکہ *مال بظاہِر اگرچہ تھوڑا ہو مگر اُس کا فائدہ ہو *.اَخْراجات پُورے ہو رہے ہوں *.ضروریات پُوری ہو رہی ہوں *.سُوال کے لیے ہاتھ نہ پھیلانے پَڑ رہے ہوں، یہ مال گنتی کے لحاظ سے اگرچہ تھوڑا ہے مگر بابَرکت ہے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami