Share this link via
Personality Websites!
479672
9528
میرے پاس کھجوروں کے باغات ہوں *.مدینہ شریف کی منڈی میں میری کھجوروں کی بڑی دُکان ہو *.میرا کھجوروں کا بڑا کاروبار ہو۔ اگرچہ پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم یہ بھی عطا فرما سکتے ہیں مگر حضرت اَبُو ہُریرہ رَضِیَ اللہ عنہ نے یہاں کھجوروں کی کثرت نہیں مانگی بلکہ کہا: بَرَکت کی دُعا فرمائیے! کَثْرت میں اور بَرَکت میں فرق ہوتا ہے۔
خیر! پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم نے یہ کھجوریں لیں یا تَو انہیں اپنی مٹھی مبارک میں رکھ لیا یا ایک جگہ جمع کر کے، اُن پر ہاتھ مبارَک رکھ دیااور ان میں برکت کی دُعا فرمائی۔
اس کے بعد فرمایا: اے اَبُو ہُریرہ! یہ کھجوریں لے لو، انہیں اپنے تھیلے میں رکھ لو...!! اب تم نے کرنا یہ ہے کہ جب بھی کھجوروں کی ضرورت ہو، اس تھیلے کے اندر ہاتھ ڈال کر نکال لیا کرنا، پُورا تھیلا کھول مت دینا۔
اب اِس دُعائے مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کی برکات دیکھیے کیسی ظاہِر ہوئیں؛ حضرت اَبُو ہُریرہ رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے یہ تھیلا سنبھال لیا، اِن (صرف و صرف 21) کھجوروں میں اللہ پاک نے ایسی بَرَکت عطا فرمائی کہ *.میں نے اُسی تھیلے میں سے نکال نکال کر کئی مَنْ کھجوریں راہِ خُدا میں صدقہ کیں *.میں خُود بھی اس میں سے کھجوریں کھایا کرتا تھا *.اپنے دوستوں کو بھی کھلایا کرتا تھا۔
یہاں تک کہ جس دِن مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہ عنہ شہید ہوئے، اس دِن یہ تھیلا مجھ سے گم ہو گیا۔([1])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami