Share this link via
Personality Websites!
479685
9528
آفرز(Offers) لگائی جاتی ہیں، حَسَد ہوتا ہے، جلن ہوتی ہے۔ دِل کرتا ہے کہ کسی طرح پڑوسی کے گاہَک ٹُوٹ جائیں، میرے پاس آ جائیں۔ یہ دِل کا لالچ ہے، مال کی حِرْص ہے۔
*.ایک ہوتی ہے: دِل کی بےنیازی۔ کمانے کے لیے دُکان تو کھولی ہے، کاروبار تَو شروع کیا ہے، کاروبار میں ترقی پانے کےلیے مختلف جائِز طریقے بھی اپناتے ہیں مگر *.دِل میں لالچ نہیں ہے، دِل میں مال کی حِرْص نہیں ہے *.اِس کے لیے اِدھر اُدھر کے گاہَک توڑنے کی حِرْص نہیں ہے *.دوسروں کی دکانداری خراب کرنے کا ذِہن نہیں ہے، بَس جتنا اللہ پاک نے دے دیا، اسی پر دِل راضِی ہے۔ یہ دِل کی بےنیازی ہے۔ پیارے مَحْبُوب صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم نے فرمایا: جو دِل کی بےنیازی کے ساتھ مال کمائے گا، اسے بَرَکت دی جائے گی، جو دِل میں لالچ رکھ کر کمائے گا، اُس سے بَرَکت اُٹھا لی جائے گی۔
اللہ اکبر! پیارے اسلامی بھائیو! آپ سمجھ رہے ہیں نا؛ ہمارے مال میں، رِزْق میں بَرَکت کیوں نہیں آتی...؟ مَیں سب کی بات نہیں کرتا، البتہ! ہمارے ہاں لالچ بَھرا ماحول بہر حال ہے *.دُوسروں کو نقصان پہنچا کر ترقی کرنے کا ذِہن بنتا ہے *.زیادہ منافع رکھا جاتا ہے *.مال اِسٹاک(Stock) کیا جاتا ہے *.دُوسروں کی مَجْبُوری کا لوگ فائدہ اُٹھاتے ہیں ۔ غرض؛ دِل میں مال کا لالچ ہوتا ہے، اِس لالچ کے ساتھ جب مال بَٹَورا جاتا ہے تو اُس میں برکت نہیں رہتی۔
حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہ عنہ صحابئ رسول ہیں، آپ بہت مالدار اور بہت ہی کامیاب تاجِر تھے۔ ایک مرتبہ آپ سے کسی نے پوچھا: حُضُور! آپ کی اِس خُوشحالی (یعنی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami