Share this link via
Personality Websites!
479684
9528
کے بعد ایک اَدَب سکھایا، فرمایا:
اِنَّ ہٰذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوٌ
ترجمہ: بیشک دُنیا کا مال سبز بھی ہے، میٹھا بھی ہے۔
وضاحت: ہریالی کی طرف دِل مائِل ہوتا ہے۔ سبزہ دیکھیں تو آنکھوں کو بھی سکون ملتا ہے، دِل کو بھی سکون ملتا ہے۔ اس لیے فرمایا: دُنیوی مال کا ظاہِر ایسا ہے کہ یہ سبز بھی ہے، میٹھا بھی ہے۔ یعنی اس کی طرف دِل بہت جلد مائِل ہو جاتا ہے۔([1]) مگر
فَمَنْ اَخَذَهٗ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ بُوْرِكَ لَهُ فِيْهٖ، وَمَنْ اَخَذَهٗ باِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهٗ فِيهٖ
ترجمہ: پس جو بندہ دُنیا کا مال دِل کی سخاوت کے ساتھ حاصِل کرے، اس کے لیے اس میں بَرَکت رکھی جاتی ہے اور جو دِل کے لالچ کے ساتھ مال حاصِل کرے، اس کے لیے برکت نہیں رکھی جاتی ہے۔ ([2])
پیارے اسلامی بھائیو! یہ ہے حلال کمانے کا اَدَب...!! ہم انسان ہیں نا، ہمارے اندر مال کا لالچ ہوتا ہے *.یہاں سے بھی کما لُوں، وہاں سے بھی کما لُوں *.یہ 10 روپے بھی رہ نہ جائیں، آتے ہیں تو آ ہی جائیں *.زیادہ سے زیادہ منافع لے رہے ہیں، مثلاً؛ چیز 100 روپے کی ہے، بیچ 300 کی رہے ہیں۔ 200 روپیہ منافع رکھ رہے ہیں *.ساتھ والے دُکاندار کے پاس گاہَک زیادہ ہیں، اُس کے گاہَک توڑ کر اپنے پاس لانے کا ذِہن بنتا ہے، اس کے لیے مختلف
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami