Share this link via
Personality Websites!
479683
9528
اب ایک اور بات سنیے! ہم نے کمانا حلال ہی ہے مگر اُس حلال کمانے میں بھی ایک اَدَب کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ حدیثِ پاک سنیے! حضرت حکیم بن حِزَام رَضِیَ اللہ عنہ صحابئ رسول ہیں، ایک مرتبہ آپ بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہوئے، اپنی ضرورت کے مُطَابِقْ کچھ مانگا۔ آپ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم نے عطا فرما دیا۔ انہوں نے مزید مانگا، آپ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم نے مزید عطا فرمایا، تیسری مرتبہ پِھر مانگا، مَحْبُوب صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم نے تیسری بار بھی عطا فرما دیا۔سُبْحٰنَ اللہ!
مانگیں گے، مانگے جائیں گے، مُنہ مانگی پائیں گے
سرکار میں نہ لَا ہے، نہ حاجت اگر کی ہے([1])
وضاحت: یعنی ہم اس کریم کے دَرْ پہ ہیں جن کی بارگاہ سے منگتا کبھی خالی جاتا ہی نہیں، کیونکہ ربّ کے مَحْبُوب صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم نے کبھی لَا (یعنی ”نہ“) نہیں فرمایا اور نہ ہی آپ کی بارگاہ میں اگر کا لفظ ہے(یعنی اگر ہوا تو دیں گے وغیرہ بلکہ عطا ہی ہوتی ہے) تبھی تو ہم کہتے ہیں مانگیں گے، مانگے جائیں گے، منہ مانگی مُرادیں پائیں گے۔
یہ تَو تِھی مَحْبُوب صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم کی عطائیں، دینے سے آپ تھکتے نہیں ہیں، کوئی قَطرہ مانگے تو دَرْیا عطا فرماتے ہیں، بلکہ سچّی بات تو یہ ہے کہ مانگنا بھی یہی سکھاتے ہیں، پِھر عطا بھی خود ہی فرماتے ہیں۔
مانگنے کا شُعْور دیتے ہیں جو بھی مانگو حُضُور دیتے ہیں
لیکن ظاہِر ہے اُمّت کو صِرْف مانگنا ہی تو نہیں سکھانا تھا، آداب بھی تَو سکھانے تھے۔ چنانچہ آپ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم نے حضرت حکیم بِنْ حِزام رَضِیَ اللہ عنہ کو 3مرتبہ عطا فرمانے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami