Share this link via
Personality Websites!
479681
9528
نکالنے کے لیے کوئی چمٹا، کوئی آلہ وغیرہ استعمال نہیں کرتا تھا، ڈائریکٹ(Direct) ہاتھ ہی آگ میں ڈال دیتا تھا۔ پِھر اس گرما گرم لوہے کو ہاتھ ہی سے اُلَٹ پَلَٹ کرتا رہتا تھا۔ آگ کا کام تو جَلانا ہے، کوئی بھی ہو، اُسے جلاتی ہی جلاتی ہے مگر حیرت کی بات تھی، اُس عجیب لوہار کو آگ کچھ نہیں کہتی تھی۔
وہ بزرگ فرماتے ہیں: میں نے اُن سے اِس کا سبب پُوچھا تو اُس عجیب لوہار نے اپنا واقعہ سُنایا، کہنے لگا: میں بہت گنہگار تھا، ایک مرتبہ ایک حسِین عورت میرے پاس آئی، بیچاری مَجْبُور تھی، اُس نے مجھ سے مدد کا سُوال کیا مگر میں تو تھا گنہگار...!! میری نگاہ بہک گئی، دِل میں بدکاری کی خواہش اَنگڑائیاں لینے لگی، میں نے اُس بیچاری کی مَجْبوری کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے کہا: تم میرے ساتھ گھر چلو! تمہیں اتنا دُوں گا کہ سب پریشانیاں دور ہو جائیں گی۔ وہ شریف عورت تھی، اُس نے میری پیشکش ٹھکرائی اور واپس چلی گئی۔ کچھ دَیر کے بعد روتے ہوئے دوبارہ آئی، بولی: میں وقت کے ہاتھوں مَجْبُور ہوں، کچھ مدد کر دو!
اب کی بار اُس نے میری پیشکش قبول کی، میں اُسے ساتھ لے کر گھر پہنچا، جب میں اس کے قریب ہوا تو وہ تھر تھر کانپنے لگی، وہ یُوں تڑپ رہی تھی، جیسے طوفان میں پھنسی کشتی ہچکولے لیتی ہے۔ میں نے اِس حالت کا سبب پوچھا تو بولی: میں اللہ پاک کے خوف سے تڑپ رہی ہوں، آہ! اس وقت ہم گُناہ کی طرف بڑھ رہے ہیں اور اللہ پاک ہمیں دیکھ رہا ہے۔ اللہ پاک تمہیں دُنیا اور آخرت میں آگ سے مَحْفُوظ فرما دے، خُدا کے لیے مجھے چھوڑ دو!
وہ لوہار کہتا ہے: میں نے اسے چھوڑ دیا، وہ جلدی سے چلی گئی۔ اس کے بعد میں نے خواب دیکھا؛ ایک عورت ہے، میں نے پوچھا؛ تم کون ہو؟ بولی: میں اُس لڑکی کی ماں ہوں،
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami