Share this link via
Personality Websites!
479680
9528
حدیثِ پاک میں ہے: آخری نبی، مکی مدنی، مُحَمَّد عربی صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم نے فرمایا:
اِنَّكَ لَنْ تَدَعَ شَيْئًا اِتِّقَاءَ اللهِ اِلَّا اَعْطَاكَ اللهُ خَيْرًا مِّنْهٗ
ترجمہ: تم اگر اللہ پاک کے خوف سے کچھ چھوڑ دو گے تو اللہ پاک تمہیں اس سے بہتر عطا فرما دے گا۔ ([1])
سُبْحٰنَ اللہ! مَعْلُوْم ہوا؛ جو اللہ پاک کے خوف سے گُنَاہ اور بُرائی چھوڑ دیتا ہے، اللہ پاک اُس کے اِس عَمَل کو ضائع نہیں فرماتا بلکہ اِس سے کہیں بہتر بدلہ عطا فرما دیتا ہے، مثلاً؛ *.سُودِی لَیْن دَین کا موقع مُیَسَّر تھا، مال بھی بڑھتا دِکھائی دے رہا تھا، پِھر بھی بندہ چھوڑ دے کہ سُوْد گُنَاہ ہے، لہٰذا میں اِس میں نہیں پڑوں گا *.بظاہِر نظر آ رہا ہے کہ جُھوٹ بولنے سے دُکان اچھی چلتی ہے، بندہ پِھر بھی جُھوٹ نہ بولے کہ جُھوٹ بولنا گُنَاہ کا کام ہے *.جھوٹی قسمیں کھانے سے سَوْدا بِکتا نظر آ رہا ہے، آدمی پِھر بھی جھوٹی قسم نہیں کھاتا *.دِل میں گُنَاہ بھری خواہش اُبھر رہی ہے مگر بندہ اُس خواہش کو دَبا دیتا ہے، گُنَاہ میں نہیں پڑتا، تو اللہ پاک اُسے گُنَاہ سے بچنے اور اُس خواہش سے رُکنے کا بہترین بدلہ دُنیا میں بھی عطا فرما دیتا ہے اور آخرت میں بھی عطا فرمائے گا۔
علّامہ اِبْنِ جَزْرِی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے ایک واقعہ لکھا، بہت خوبصُورت واقعہ ہے، ایک بزرگ تھے، وہ فرماتے ہیں: میں نے ایک لوہار دیکھا، بڑا عجیب تھا، وہ لوہے کو بھٹی میں رکھتا، اسے گرم کرتا، پِھر آگ میں ہاتھ ڈال کر لوہے کو باہَر نکال لیتا تھا۔ یعنی لوہا آگ سے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami