Share this link via
Personality Websites!
479679
9528
مجھ کو خزانہ دے تَقویٰ کا یااللہ! مِری جھولی بھر دے([1])
پیارے اسلامی بھائیو! مَعْلُوْم ہوا؛ تقویٰ اختیار کرنے سے بھی رِزْق میں برکت آتی ہے اور سُبْحٰنَ اللہ!کیسی برکات ہیں کہ جو تقویٰ اِخْتیار کرتا ہے، اسے رِزْق وہاں سے دیا جاتا ہے، جہاں سے اُس کا گُمان بھی نہ ہو۔
بعض اوقات ہمارے ساتھ ایسا ہو جاتا ہے، سب دروازے بند ہو جاتے ہیں، مثلاً *.پیسوں کی سخت ضرورت ہے، کام چل نہیں رہا *.نوکری تھی، چُھوٹ گئی *.دُکان بنائی، چلی نہیں *.بچے بُھوک سے بِلَک رہے ہیں *.بھائی سے اُدھار مانگا، اُس سے نہ ملا *.دوستوں سے مدد مانگی، وہ کر نہیں پائے *.سارے ہی دروازے بند، کوئی سمجھ ہی نہیں آ رہی، کریں تو کیا کریں، رِزْق کا دروازہ کُھلے تو کہاں سے کُھلے، ایسے موقع پر بندہ ہزار راستے تلاش کرتا ہے مگر اُسے کوئی راستہ نظر نہیں آتا، کوئی طریقہ ملتا نہیں ، آئیے! قرآنِ کریم کی طرف، قرآنِ کریم نے ہمیں راستہ دکھایا، وہ کیا ہے؟ قرآن کہتا ہے: تقویٰ اختیار کر لو! اللہ پاک تمہیں وہاں سے رِزْق عطا فرمائے گا، جہاں تمہارا گمان بھی نہیں ہو گا۔
تَقْویٰ کا معنیٰ ہے: اللہ پاک سے ڈرنا، گُنَاہوں سے بچنا۔([2]) اگر ہم تَقْویٰ اِخْتیار کریں، اللہ پاک سے ڈریں، گُنَاہ چھوڑیں، نیک کاموں میں لگے رہیں تو اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم!کرم ہی کرم ہو گا۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami