Share this link via
Personality Websites!
479400
9517
قُرْب اپنی عقل کے مُطَابِق حاصِل کریں گے۔([1])
یعنی جو جتنا عقل مند ہو گا، اتنا ہی اللہ پاک کا قُرْب پانے کی سَعَادت پا سکے گا۔
صحابئ رسول حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ عنہما سے روایت ہے، فرمایا: بیشک بندہ *نمازیں بھی پڑھتا ہے*زکوٰۃ بھی دیتا ہے*حج بھی کرتا ہے*عمرہ بھی کرتا ہے (یونہی آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نیکیاں گنواتے گئے، آخر فرمایا:)
وَمَا يُجْزٰى يَوْمَ الْقِيَامَةِ اِِلَّا بِقَدْرِ عَقْلِهٖ
یعنی روزِ قیامت ان تمام نیکیوں کی جزاء بندے کی عقل کے مُطَابِق ہی دی جائے گی۔([2])
اللہ اکبر! پیارے اسلامی بھائیو! مَعْلُوم ہوا؛ ایک شخص جو عقل مند ہے، دوسرا وہ جو عقل مند نہیں ہے، یعنی کم عقل والا ہے*دونوں ہی نمازیں پڑھتے ہیں*دونوں ہی زکوٰۃ دیتے ہیں*دونوں ہی روزے رکھتے ہیں*دونوں ہی حج و عمرہ کی ادائیگی کرتے ہیں مگر قیامت والے دِن جو زیادہ عقل مند ہو گا، وہ نیکیوں کا اَجْر اپنی عقل مندی کے سبب زیادہ پائے گا اور جس کی عقل کم ہو گی، اُسے اَجْر بھی دوسرے شخص کی نسبت کم ملے گا۔ پتا چلا؛ روزِ قیامت اَجْر کے کم یا زیادہ ہونے کا تَعَلُّق عقلمندی اور بےعقلی کے ساتھ ہے۔
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولِ ذیشان، مکی مدنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: جب اللہ پاک نے عقل کو پیدا کِیا تو *اسے حکم دیا: قُمْ (اے عقل!) کھڑی ہو جا۔ عقل کھڑی ہو گئی *پِھر فرمایا: اَدْبِرْ پیچھے ہٹ! عقل پیچھے ہٹ گئی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami