Share this link via
Personality Websites!
479398
9517
آئیں گے، گھر کے، خاندان کے بڑے بھی ہیں، ایک عمر گُزار لی، تَجْرِبَہ بھی بہت ہو گیا، اس کے باوُجُود جھگڑالُو طبیعت ہوتے ہیں *بات بات پر رُوٹھ کر بیٹھ جاتے ہیں *اچھے خاصے ماحَوْل کو خوامخواہ لڑائی والا بنا دیتے ہیں *چُونکہ عِلْمِ دِین پڑھا نہیں ہوتا، لہٰذا بظاہِر عقلمند دِکھنے کے باوُجُود سمجھداری نہیں ہوتی *چغلیاں کریں گے*غیبتیں کریں گے *دوسروں کے خِلاف کان بھریں گے اور کوئی نہ کوئی حرکت کر کے، یا نَاسمجھی دِکھا کر لڑائی کروا دیتے ہیں یا شروع ہو چکی لڑائی کو بڑھاوا دے دیتے ہیں۔ یہ بہت غلط حرکت ہے۔
یاد رکھیے! جھگڑالُو طبیعت انسان کو بُرا اَور بَدتَرِین شخص قرار دیا گیا ہے۔ قرآنِ کریم میں منافقوں کا وَصْف بیان ہوا:
وَ هُوَ اَلَدُّ الْخِصَامِ(۲۰۴) (پارہ:2، سورۂ بَقَرہ:204)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:وہ سب سے زیادہ جھگڑا کرنے والا ہے۔
پتا چلا؛ جھگڑالو طبیعت ہونا منافق کی نشانی ہے۔ اسی طرح ایک مقام پر غیر مسلموں کے مُتَعَلِّق فرمایا:
بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ(۵۸) (پارہ:25، سورۂ زُخْرُف:58)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:بلکہ وہ جھگڑنے والے لوگ ہیں ۔
اللہ اکبر! پتا چلا؛ جھگڑالُو ہونا غیر مسلموں والا بھی وَصْف ہے اور منافقوں کا بھی طریقہ ہے۔
مسلمانوں کی پیاری اَمِّی جان حضرت عائشہ صِدِّیقہ طیبہ طاہرہ رَضِیَ اللہ عنہا سے روایت
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami