Share this link via
Personality Websites!
479396
9517
تَجْوِیز سب کو پسند آئی اور سب اگلی صبح کا انتظار کرنے لگے۔
اللہ پاک کی شان کہ اگلی صبح سب سے پہلے جو شخص حرمِ کعبہ میں تشریف لائے، وہ ساری خلقت کے مسیحا، تمام جہانوں کے لیے رحمت یعنی میرے اور آپ کے پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم تھے۔ آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کو دیکھ کر سبھی نے پُکارا:
ہٰذَا الْاٰمِیْن قَدْ رَضِیْنَا بِمَا قَضٰى بَيْنَنَا
ترجمہ: یہ تَو امین ہیں، ہم ان کے فیصلے پر راضِی ہیں۔
چنانچہ سب نے آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی خِدْمت میں عرض کیا کہ ہمارے جھگڑے کا فیصلہ آپ فرمائیے! اب ہمارے مَحْبُوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی کمال عقلمندی اور بےمثال دانائی کا نظارہ کیجیے! آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: ہر قبیلے سے ایک ایک سردار چُن لَو...!! چنانچہ ایک ایک سردار چُن لیا گیا۔ آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے اپنی چادر مبارَک بچھائی، حَجرِ اَسْوَد کو چادر مبارَک چومنے کا موقع عطا فرمایا (یعنی حجرِ اَسْود چادر شریف کے اُوپَر رکھ دیا گیا)۔ اب سب سرداروں سے فرمایا: تم سب مِل کر چادر کے کونَوں کو پکڑ کر پتھر کو اُٹھاؤ! سب نے چادَر مبارَک کے ذریعے حجرِ اَسْوَد اُٹھایا اور اُس مقام تک لے گئے جہاں حجرِ اسوَد لگانا تھا، یہاں سے آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے حجرِ اَسْود شریف کو اپنے مبارَک ہاتھوں سے اُٹھا کر کعبہ شریف کی دِیوار میں لگا دیا۔([1])
اِس بےمثال حکمتِ عملی کے ذریعے عرب کی ایک ایسی جنگ ٹل گئی، جس کے نتیجے میں نہ جانے کتنا خُون بہہ جاتا اور کتنے ہی بچے یتیم ہو جاتے۔
[1]...طبقات ابن سعد، ذکر حضور رسول اللہ صلَّی اللہُ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم...الخ، جلد:1، صفحہ:116و 117 ملتقطاً ۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami