Share this link via
Personality Websites!
479395
9517
آئیے! پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی کمال دانائی اور عقلمندی کا ایک واقعہ سنتے ہیں۔ بڑا مشہور واقعہ ہے، آپ نے پہلے بھی سُنا ہو گا:
اعلانِ نبوت سے پہلے کی بات ہے، اُس وقت مَحْبُوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی عمر شریف تقریباً 35 سال تھی، زَور دار سیلابی بارشوں کے سبب کعبہ شریف کی عمارت کو سخت نقصان پہنچا، چنانچہ اَہْلِ مکّہ نے عِمارت شریف کو دوبارہ بنانے کا اِرادہ کیا۔ سب قبیلوں نے اِس اچھے کام میں خُوب حصّہ لیا۔ رسولِ ذیشان، مکی مدنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم خُود بھی شریک ہوئے، خُود اپنے مقدّس و مبارَک ہاتھوں سے پتھر اُٹھا کر لاتے رہے۔ جب کعبہ شریف کی عِمارت حجرِ اَسْود تک پہنچ گئی تو ایک جھگڑا کھڑا ہو گیا۔
کیونکہ مختلف قبیلے مِل کر تعمیر کر رہے تھے، ظاہِر ہے جو قبیلہ حجرِ اَسْود لگاتا، اُس کا نام ہونا تھا، اُس قبیلے کی عزّت بڑھ جانی تھی، لہٰذا ہر قبیلہ چاہتا تھا کہ حجرِ اَسْوَد لگانے کی سَعَادت ہم حاصِل کریں۔
اب ہر طرف سے میں، میں ہی ہو رہی تھی، ایک قبیلہ کہتا ہے: حجرِ اسود ہم لگائیں گے، دوسرا کہتا ہے: ہم لگائیں گے۔ یُوں بات بڑھتے بڑھتے سخت جھگڑے میں بدل گئی، یہاں تک کہ لوگوں نے لَڑ مَرنے کے لیے تلواریں تک نِکال لیں۔
خیر! آپس میں بات چیت ہوئی، کچھ بڑے بُوڑھے درمیان میں آئے، مذاکرات کے ذریعے آخر یہ طَے ہوا کہ کل صبح سویرے جو شخص سب سے پہلے حرمِ کعبہ میں داخِل ہو گا، اسے ہم سب پَنْچ (یعنی فیصلہ کرنے والا) مان لیں گے، وہ جو کہے گا، اسی کی بات حتمی ہو گی۔ یہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami