Share this link via
Personality Websites!
479415
9517
سے بہتر ہے۔([1])
حضرت حکیم لقمان رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کی عادت تھی کہ تنہائی میں دیر تک بیٹھے رہتے، ایک مرتبہ ایک شخص ان کے پاس سے گزرا تو پوچھا: اے لقمان! تم اتنی دیر تک تنہا بیٹھے رہتے ہو اگر لوگوں کے ساتھ بیٹھو تو کچھ دل لگ جائےگا۔ حکیم لقمان رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے فرمایا:زیادہ دَیْر تنہا بیٹھنے سے زیادہ سمجھ بوجھ پیدا ہوتی ہے اور لمبی فکر راہِ جنت کی راہنمائی کرتی ہے۔([2])
پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں بھی غور و فِکْر کی عادَت بنانی چاہیے۔غور و فِکْربھی باقاعدہ ایک فَن ہے، اسے سیکھنا پڑتا ہے، ہر ایک غور و فِکْر کر نہیں سکتا۔ احیاء العلوم امام غزالی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کی بہت پیاری کتاب ہے، اس کی پانچویں جلد میں غور و فِکْر کا ایک پُورا باب ہے، اَلحمدُ للہ! احیاء العلوم کا اردو ترجمہ مکتبۃ المدینہ نے شائع کیا ہے، 5 وِیں جلد سے غور و فِکْر کا باب پڑھ لیجیے! اس سے غور و فِکْر کے آداب، اس کے طریقے اور اس کی احتیاطیں سیکھنے کو مل جائیں گی، ہمیں اس فن کو سیکھنا ہے اور اپنی روز مرہ زندگی کا حصہ بنانا ہے۔ اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق نصیب فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم۔
آخر میں ایک روایت سُن لیجیے! حضرت وَہْب بن مُنَبّہ رَضِیَ اللہ عنہ نقل فرماتے ہیں: عقل مند بندے کی روٹین میں 4وقت ہونے چاہیے (1): وہ وقت جب وہ اللہ پاک سے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami