Share this link via
Personality Websites!
479412
9517
نوٹ:یہاں ایک بات عرض کر دُوں؛ وہ بُرے لوگ جو مَعَاذَ اللہ! گستاخِ رسول ہوں، گستاخِ صحابہ و اَوْلیا ہوں، ان کی بات سننا ہر گز درست نہیں ہے، ان کی بات سننا تو دُور کی بات، ان کے پاس بیٹھنے سے بھی قرآنِ کریم نے منع فرمایا ہے۔ لہٰذا اَیسے گستاخوں کی بات ہر گز سننی نہیں چاہئے، نہ ہی یہ جائز ہے۔
کیا تجھ جیسا آدمی مجھے سمجھائے گا...؟
صحابئ رسول حضرت عبد ُاللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ پاک کے ہاں بڑے گُنَاہوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ کسی کو جب کہا جائے کہ اللہ پاک سے ڈَر! تو وہ آگے سے کہے: تُو اپنی فِکْر کر...!! کیا تجھ جیسا آدمی مُجھے حُکم دے گا؟([1])
اللہ! اللہ! سوچئے! یہ کتنا سخت جُرْم ہے۔ ہمارے ہاں ایسی باتیں عام ہیں۔ اللہ پاک ہمیں ایسی بےوقوفیوں سے محفوظ فرمائے۔ کاش! ہم نصیحت قبول کرنے والے بن جائیں۔
(2):ذِکْر ، فِکْر اور ایمان کی پختگی
عقل مندوں کی مزید نشانیاں کیا ہیں؟ اللہ پاک نے فرمایا:
الَّذِیْنَ یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِهِمْ وَ یَتَفَكَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ-رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًاۚ-سُبْحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ(۱۹۱) (پارہ:4، سورۂ آلِ عِمْرَان:191)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:جو کھڑے اور بیٹھے اور پہلوؤں کے بل لیٹے ہوئے اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں۔ اے ہمارے ربّ!تو نے یہ سب بیکار نہیں بنایا۔ تو پاک ہے، تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami