Share this link via
Personality Websites!
479411
9517
سَلَّم! اُس نے مجھے یُوں یُوں کر کے ایک وظیفہ بتایا، لہٰذا میں نے چھوڑ دیا۔ نبیِ پاک صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم نے فرمایا:
اَمَا اِنَّهُ قَدْ صَدَقَكَ وَهُوَ كَذُوْبٌ
یعنی اے ابوہریرہ! وہ ہے تو جھوٹوں کا سردار مگر تجھ سے سچ بول گیا۔
اے ابوہریرہ! جانتے ہو وہ کون تھا؟ عرض کیا: میں تو نہیں جانتا۔ فرمایا: ذَاكَ شَيْطَانٌ یعنی وہ شیطان لَعِیْن تھا۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! دیکھیے! بات اچھی تھی، کہی شیطان نے ہے۔ اُس کو تسلیم کیا گیا۔ پتا چلا؛ بات سچّی ہو، کہنے والا کوئی بھی ہو، ہمیں مان لینی چاہیے۔ مثال کے طور پر *ہمارا بیٹا ہمیں نماز کی دعوت دے، کیا نہیں ماننی چاہیے؟ مان لینی چاہیے *10، 15 سال کا بچہ ہمیں نیکی کی دعوت دے، بات دُرست ہو تو مان لیجیے! *ہم سے چھوٹا ہمیں شرعِی مسئلہ بتا رہا ہے، درست بتا رہا ہے تو مان لیجیے! *گھروں میں بعض دفعہ چھوٹے ناسمجھ بچے کچھ کہہ دیتے ہیں، سیکھنے کی بات ہوتی ہے، بچے ہوتے ہیں نا، من کے سچّے ہوتے ہیں، وہ بولنے کو بول دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم نے بچے کو سمجھایا بیٹا جھوٹ نہیں بولا کرتے۔ تھوڑی دیر کے بعد خُود جھوٹ بول دیا۔ بچہ تو بچہ ہے، وہ دیکھے گا تو بول دے گا: اَبوجان! آپ خُود جُھوٹ بول رہے ہو...؟ اس پر بچے کو ڈانٹ نہ دَیں، بہانہ نہ لگائیں کہ بیٹا! میں نے اس لیے جھوٹ بولا، فُلاں حکمت پیشِ نظر تھی۔ نہیں...!! ایسا نہ کریں۔ بچے کی غلط تربیت ہو جائے گی۔ وہ تَوَجُّہ دِلا رہا ہے کہ آپ نے جُھوٹ بول دیا ہے۔ اب مان لیجیے! غرض ؛ بات سچی ہے، جس زبان سے بھی نکلی ہو، مان لیجیے!
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami