Share this link via
Personality Websites!
479409
9517
فرماتے ہیں: رات ہوئی، میں غلے کی حفاظت کر رہا تھا، اتنے میں ایک شخص آیا، اس نے غلے سے کچھ چیزیں اُٹھائیں، جونہی وہ اُٹھا رہا تھا، میں نے اُسے دَبَوْچ لیا، اب وہ عاجِزی سے منّت سماجت کرنے لگا، بولا:
اِنِّيْ مُحْتَاجٌ، وَعَلَيَّ عِيَالٌ وَّلِيْ حَاجَةٌ شَدِيْدَةٌ
ترجمہ: اے ابوہریرہ! میں محتاج ہوں، میرے بچے ہیں، مجھے اس غلے کی شدید حاجت ہے۔
فرماتے ہیں: مجھے ترس آ گیا اور میں نے اسے چھوڑ دیا۔ صُبح ہوئی، پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا:
يَا اَبَا هُرَيْرَةَ، مَا فَعَلَ اَسِيْرُكَ البَارِحَةَ
یعنی اے ابوہریرہ! رات تمہارے قیدی کا کیا ہوا...؟ عرض کیا: حُضُور! اُس نے بہت مِنّتیں کیں، مجھے ترس آ گیا۔ فرمایا:
اَمَا اِنَّهُ قَدْ كَذَبَكَ، وَسَيَعُوْدُ
یعنی ابوہریرہ! اس نے جھوٹ بولا...!! وہ پِھر آئے گا۔
سُبْحٰنَ اللہ! کیسا کمال کا عِلْم ہے؛ *یہ بھی مَعْلُوم ہے کہ رات چور آیا تھا *یہ بھی مَعْلُوم ہے کہ وہ کون تھا *حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ عنہ اس سے باتیں کررہے تھے، اُس کا جُھوٹ نہ پہچان پائے، مَحْبوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم اپنے گھر مبارَک پر تھے، اسے دیکھا بھی نہیں، بات بھی نہیں کی ، چہرے کے تاثُّرات بھی نہیں دیکھے، پِھر بھی مَعْلُوم ہے کہ اُس نے جُھوٹ بولا، یہ ماضِی کا عِلْم تھا *آیندہ وہ دوبارہ آئے گا، یہ بھی جانتے ہیں، یہ مستقبل کا عِلْم ہے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami