Share this link via
Personality Websites!
479407
9517
پہلے ہم عقل کے فضائل تَو سُن ہی چکے ہیں۔ لہٰذا عقل مند بننے کے لیے ہمیں چاہیے کہ ہم دِیندار بھی بنیں، اللہ و رسول کی فرمانبرداری بھی کریں اور ساتھ ہی ساتھ حُسْنِ اَخْلاق بھی اپنایا کریں۔ اللہ پاک ہمیں اس پر عمل کی توفیق نصیب فرمائے۔
آئیے! قرآنِ کریم کی روشنی میں عقل مند بندے کی چند مزید نشانیاں سنتے ہیں:
اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ(۲۶۹) (پارہ:3، سورۂ بَقَرہ:269)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اور عقل والے ہی نصیحت مانتے ہیں ۔
پتا چلا؛ عقل مند بندہ نصیحت قبول کرنے والا ہوتا ہے۔ ([1])
واقعی سچی بات ہے؛ سادَہ سِی مثال سے عرض کروں؛ فرض کیجیے! سکول یا مدرسے وغیرہ میں 2طالِبِ عِلْم ہیں؛ اُستاد دونوں ہی کو نصیحت کرتا ہے، دونوں ہی کو پڑھائی پر تَوَجُّہ دینے کا کہتا ہے، فضولیات سے بچنے، وقت پر آرام کرنے، وقت پر اُٹھنے، وقت پر پڑھنے، وقت پر سکول آنے کی نصیحت کرتا ہے۔ اب ان دونوں میں سے *ایک طالِبِ عِلْم استاد کی نصیحت مان لیتا ہے، اپنی پڑھائی پر تَوَجُّہ دیتا ہے، فضولیات سے بچتا ہے، کھیل کُود اور برے دوستوں کی صحبت میں وقت ضائع نہیں کرتا*دوسرا طالِبِ عِلْم نصیحت قبول نہیں کرتا، پڑھائی پر تَوَجُّہ بھی نہیں دیتا، وقت بھی ضائع کرتا رہتا ہے، فضولیات میں بھی پڑا رہتا ہے۔ بتائیے! آخر میں کامیاب کون ہو گا؟ یقیناً نصیحت قبول کرنے والا امتحان میں کامیاب
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami