Share this link via
Personality Websites!
479405
9517
جاتے ہیں *روزانہ طَے شُدہ وقت پر سُورج نکلتا ہے، طے شُدہ وقت پر غروب ہو جاتا ہے *آپ دیکھیں؛ زندگی گزارنے کے لیے وہ کونسی سہولت اور کونسی ضرورت ہے جو زمین پر موجود نہیں ہے...؟
اِس سارے کے سارے نظام کو دیکھ کر جو بندہ کہہ دے یہ سب کچھ خُود بخود بن گیا ہے اسے کسی نے بھی بنایا نہیں ہے؟ بتائیے! آپ ایسے شخص کو عقل مند کہیں گے...؟ یہ کہاں سے عقل مند آ گیا *جو یہ تو مانتا ہے کہ ایک چھوٹا سا گِلاس خود بخود نہیں بن سکتا *ایک چھوٹا سا گیند(Ball) خُود نہیں بن سکتا *انسان خُود بخود پیدا نہیں ہو سکتا *اِنسان عقل و شعور رکھنے کے باوُجُود خُود کو تخلیق نہیں کرسکتا، یہ سب کچھ مانتا ہے مگر کہتا ہے: اتنی بڑی کائنات خُود بخود ہی بن گئی ہے، اسے بنانے والا کوئی بھی نہیں ہے۔ بھلا یہ عقل مندی ہے...؟ نہیں...! نہیں! یہ تَو پرلے دَرجے کی بےوقوفی ہے۔
مگر افسوس! آج اسی بےعقلی اور بےوقوفی کو ریشنل اِزْم (عقل پرستی کا نظریہ) کہا جاتا ہے۔ اَسْتَغْفِرُ اللہ!اِن نام نہاد عقلمندوں کو ہو کیا گیا ہے...؟ یہ ریشنل اِزْم والے، ہَیُوْمَنْ اِزْم والے کہتے پتا کیا ہیں؟ ان کا ماننا ہے کہ اِنْسان اور گدھا ایک جیسے ہیں، گدھا بھی دُنیا میں آیا، کھاتا پیتا، سوتا، چلتا پھرتا، مزے اُڑاتا ہے، انسان بھی اِسی طرح ہے، اس کے دُنیا میں آنے کا کوئی علیحدہ سے بڑا مقصد نہیں ہے، یہ بھی بس کھانے، پینے، سونے اور مزے اُڑانے کے لیے ہی ہے۔
لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہ! یہ ریشنل اِزْم (عقل پرستی) ہے یا بےوقوفی ہے...؟ خیر! جو
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami