Share this link via
Personality Websites!
479403
9517
دیکھیے! 3چیزیں تھیں: (1): دِین (2):عقل اور (3): حُسْنِ اَخْلاق۔ عقل کو حضرت آدم علیہ السَّلام نے منتخب فرما لیا۔ باقی دونوں کو حکم ہوا: تم دونوں آسمانوں کی طرف جاؤ...!!
اب آگے جو بات ہے نا، اُسے تَوَجُّہ سے سنیے! دِین اور حُسْنِ اَخْلاق نے کہا: ہم تو کہیں نہیں جائیں گے۔ حکم ہوا: کیا میری نافرمانی کرتے ہو؟ دونوں نے عرض کیا: نہیں...!! ہم نافرمانی نہیں کرتے بلکہ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم ہمیشہ عقل کے ساتھ ہی رہیں گے، جہاں عقل ہو گی، وہیں ہم ہوں گے۔ پس عقل کے انتخاب کے سبب تینوں چیزیں (1): دِین (2):عقل اور (3): حُسْنِ اَخْلاق حضرت آدم علیہ السَّلام کے پاس آ گئے۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ!پتا چلا؛ جہاں عقل ہو، وہاں دِین بھی لازمی ہوتا ہے، جہاں عقل ہو، وہاں حُسْنِ اَخْلاق بھی لازمی ہوتا ہے۔ جہاں دِین نہ ہو بلکہ دِین سے بیزاری ہو، سمجھ لیجیے کہ وہاں عقل بھی موجود نہیں ہے۔
*آپ دیکھیے نا؛ ابوجہل بدبخت تھا،اس نے اپنی آنکھوں سے چاند بھی ٹوٹتے دیکھا، درخت بھی چلتے دیکھے، پتھروں کو کلمے بھی پڑھتے دیکھا، اپنی آنکھوں سے کئی معجزات دیکھے مگر صِرْف حَسَد اور جَلَن کی وجہ سے اِیْمان قبول نہیں کر پایا۔ فرق دیکھیے گا: اگر یہ کلمہ پڑھ لیتا، آج ہم سب اس کا نام اَدب سے لیتے، اگر یہ کلمہ پڑھ لیتا تو اس کے نام کے ساتھ بھی دعائیہ کلمات لگتے، اگر یہ کلمہ پڑھ لیتا تو جیسے حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ سرداروں کے سردار ہو گئے، یہ بھی ہو جاتا مگر اس نے کیسی بےوقوفی کی، اپنے اندر
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami