Share this link via
Personality Websites!
479402
9517
اللہ! اللہ پاک کے وُجُود کا بھی اِنْکار کرتے ہیں *یہ عقل پرست ہی تَو ہیں جنہیں نماز کی اہمیت ہی سمجھ نہیں آتی *عقل پرست ہی تَو ہیں جو مَعَاذَ اللہ! قرآن و حدیث پر اُلٹی پلٹی تنقیدیں کرتے ہیں *عقل پرست ہی تَو ہیں جو معجزات کو بھی عقل پر تولتے اور ان کا اِنْکار کر جاتے ہیں۔ تَو کیسے ہو سکتا ہے کہ عقل اتنی فضیلت والی ہو...؟ فضیلت کا معیار تَو اِیْمان ہے، فضیلت کا معیار تَو دِین ہے، تقویٰ ہے۔
یہ سُوال ہے، شاید ذہنوں میں اُٹھ رہا ہو گا۔ جواب سنیے! اَصْل میں جو عقل ہے نا، یہ دِین سے بیزار نہیں ہوتی *دِین سے بیزار ہونا *اللہ پاک کا اِنْکاری ہو جانا *حدیثوں کا اِنْکار کرنا *دِینی احکام و مسائِل پر اُلٹی پلٹی تنقیدیں کرنا اَصْل میں عقل نہیں بلکہ بےعقلی ہے۔ جی ہاں! عقل جو ہوتی ہے نا، یہ دِین کو تسلیم کرتی ہے۔ میں آپ کو ایک روایت سناتا ہوں:
حضرت آدم علیہ السَّلام کا انتخاب
امام اِبْنِ اَبِی الدُّنیا رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے روایت لکھی، فرماتے ہیں: جب اللہ پاک نے حضرت آدم علیہ السَّلام کو زمین پر اُتارا تَو حضرت جبرائیل امین علیہ السَّلام آپ کے پاس 3چیزیں لے کر حاضِر ہوئے: (1): دِین (2):عقل اور (3): حُسْنِ اَخْلاق۔
عرض کیا: اے آدم علیہ السَّلام ! اللہ پاک فرماتا ہے: اِن 3چیزوں میں سے کوئی ایک منتخب کر لیجیے! حضرت آدم علیہ السَّلام نے فرمایا: اے جبرائیل! ان تینوں میں سے یہ ایک چیز ایسی ہے جسے میں نے جنّت میں سب سے حسین اور خوبصُورت شکل پر دیکھا تھا۔ یہ کہہ کر آپ نے عقل کی طرف ہاتھ بڑھایا اور اسے سینے سے لگا لیا۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami