Share this link via
Personality Websites!
478997
9499
ہم بالکل بےبس ہوں گے۔ ہاں! یہ ہے وہ وقت:
خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌۙ(۳) (پارہ:27، سورۂ وَاقِعہ: 3)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: کسی کو نیچاکرنے والی، کسی کو بلندی دینے والی۔
وہ وقت جو بہت ساروں کو عذاب میں گرفتار کر دے گا، اور بہت ساروں کی قبر جنّت کا باغ بن جائے گی۔
روایت ہے: ایک مرتبہ اللہ پاک کے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السَّلام کہیں سے گزر رہے تھے، آپ نے ایک انسانی کھوپڑی دیکھی۔ آپ چونکہ اللہ پاک کے نبی ہیں اور مُردے زندہ کر دینا آپ کے خاص معجزات میں سے تھا، چنانچہ آپ نے اس کھوپڑی کو ٹھوکر ماری اور فرمایا: تَكَلَّمِیْ بِاِذْنِ اللہ اللہ پاک کے حکم سے میرے ساتھ بات کرو!
اتنا فرمانا تھا کہ اس کھوپڑی نے بات کرنا شروع کی، عرض کیا: اے رُوحُ اللہ علیہ السَّلام! میں پہلے بادشاہ تھا، میری سلطنت اتنی اتنی وسیع تھی، ایک روز میں اپنے دربار میں بیٹھا تھا، عظیمُ الشَّان تاج میرے سر پر تھا، میرا لشکر اور وزیر مشیر اِرْد گِرد موجود تھے، اچانک، بالکل اچانک ملکُ الموت علیہ السَّلام کہیں سے نمودار ہوئے، ہاں! لمحہ بھر میں انہوں نے میری رُوح قبض کر لی، آہ...!! وہ بھرا دربار لمحہ بھر میں تنہائی میں بدل گیا، ہائے! ہائے! وہ جاہ و حشمت، جان نِچھاور کرنے والا میرا لشکر، وہ اُنْس و محبّت یَکْدَم وَحشت و غربت میں تبدیل ہو گیا۔([1])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami