Share this link via
Personality Websites!
478995
9499
قبر جنّت کا باغ یا دوزخ کا گڑھا
حضرت ابو سعىد خُدرى رَضِیَ اللہ عنہ سے روایت ہے،پیارے آقا،مدینے والے مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم نے فرمایا:لذّتوں کو ختم کرنے والی موت کو کثرت سے یاد کرو کیونکہ قبر روزانہ پکار کر کہتی ہے: *میں اَجْنَبِیَّت کا گھر ہوں *میں تنہائی کا گھر ہوں *میں مٹی کا گھر ہوں اور *میں کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں *جب مومن کو قبر میں دفنایا جاتا ہے تو قبر اسے کہتی ہے: خوش آمدید تُو مىرى پُشْت پر چلنے والوں مىں سے مجھے مَحْبُوب ترىن تھا اور اب تُو مىرے اندر آ گىا ہے اب تُو مىرا حُسْنِ سلوک دیکھ، پھر قبر اس کے لیے حدِ نگاہ تک کشادہ ہو جاتى ہے اور اس کے لیے جنّت کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے *اور جب کوئى فاجِر (یعنی گنہگار) یا غیر مسلم شخص دفن کیا جاتا ہے تو قبر کہتی ہے : تجھے کوئی مرحبا نہیں، تُو مىرى پشت پر چلنے والوں مىں مىرے نزدىک بدترىن شخص تھا اور اب تُو مىرے اندر آ گىا ہے لہٰذا اب اپنے ساتھ میرا برتاؤ دیکھ پھر قبر اس پر اپنا گھىرا تنگ کر دیتی ہے اور اس کى پسلىاں اىک دوسرے مىں پىوست ہو جاتى ہىں۔راوى کہتے ہىں:رسولِ اکرم، نُورِ مُجَسَّمْ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم نے یہ بات اپنی مبارک اُنگلیاں ایک دوسرے میں ڈال کر اِشارہ کر کے بتائی پھر فرمایا :اللہ پاک اس پر 70 اَژدھے(بڑے بڑے سانپ) مقرر فرما دیتا ہے اگر ان مىں سے کوئى اىک بھى زمىن پر پھنکار دے تو رہتی دنیا تک کبھى کچھ بھی نہ اُگے،وہ اَژدھے اس مُردے کو تاقىامت ڈستے رہیں گے۔
راوى کہتے ہىں:آپ صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم نے فرماىا:
اِنَّمَا الْقَبْرُ رَوْضَةٌ مِّنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ اَوْحُفْرَةٌ مِّنْ حُفَرِ النَّار
ىعنى قبر جنّت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے ىا جہنّم کے گڑھوں میں سے ایک
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami