Share this link via
Personality Websites!
478994
9499
شاہِ مَوْجُودات صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم نے فرمایا: اَلْبِرُّ لَایَبْلٰی نیکی کبھی پرانی نہیں ہوتی، وَالذَّنْبُ لَایُنْسٰی گُناہ کبھی بُھلایا نہیں جاتا، وَالدَّیَّانُ لَایَمُوْت اور بدلہ دینے والی ذات (یعنی اللہ پاک) کو کبھی مَوت نہیں آئے گی، اِعْمَلْ مَا شِئْتَ جو چاہو کرو! کَمَا تَدِیْنُ تُدَانْ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔([1])
گَنْدُم زِ گَنْدُم جَوْ زِ جَوْ
اَزْ مَکَافَاتِ عَمَل غَافِل مَشَوْ
وضاحت: گندم بیج کر گندم ہی کاٹو گے، جَو بیج کر جَو ہی کاٹو گے، دُنیا میں مَکَافَاتِ عَمَل ہے یعنی یہاں Tit For Tat (جیسی کرنی وَیسی بَھرنی) والا قانون جاری ہے، اِس سے غفلت مَت کرو!
(2):قیامتِ صُغْریٰ یعنی موت کا وقت
پیارے اسلامی بھائیو! اللہ پاک نے فرمایا:
اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ(۱) لَیْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌۘ(۲) خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌۙ(۳) (پارہ:27، سورۂ وَاقِعہ:1-3)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: جب واقع ہونے والی واقع ہوگی، (اس وقت) اس کے واقع ہونے میں کسی کو انکار کی گنجائش نہ ہو گی، کسی کو نیچا کرنے والی،کسی کو بلندی دینے والی۔
اِن آیات کا دوسرا معنیٰ یہ ہے کہ یہاں وَاقِعہ سے مراد قیامتِ صغریٰ یعنی موت کا وقت ہے۔([2])اب مطلب یہ بنے گا: یاد کرو! جب موت آجائے گی، ہاں! ہاں! کوئی اسے روک نہیں پائے گا۔ موت بہت ساروں کو پست اور بہت ساروں کو بلند رُتبہ کر دے گی۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami