Share this link via
Personality Websites!
478993
9499
عذاب آیا، دریا کی ایک ہی لہر نے اس کا کام تمام کر ڈالا۔([1])
*.نمرود بھی تَو بندہ ہی تھا، اس بدبخت نے لشکر تیار کیا، میدان میں نکلا اور کہا: اے ابراہیم! کہیےاپنے رَبّ کو، آئے اور میرے ساتھ جنگ کرے۔ حضرت ابراہیم علیہ السَّلام نے بارگاہِ اِلٰہی میں عرض کیا: اِلٰهِي تَسْمَعُ مَا يَقُوْلُ هٰذَا الْكَلْبُ یعنی مولیٰ! تُو نے سُن لیا کہ یہ جانور کیا بکواس کر رہا ہے۔ اللہ پاک نے حضرت جبرائیل علیہ السَّلام سے فرمایا: اے جبرائیل! ہماری کمزور تَرِین مخلوق یعنی مچھروں کا لشکر اس کی جانِب بھیجو! چنانچہ مچھر آئے، اتنے مچھر تھے کہ دِن میں اندھیرا چھا گیا، مچھروں نے اس کی فوج کی کھال تک کھا لی، ہڈیوں کے ڈھانچے بچ گئے۔ ایک مچھر نمرود کے دِماغ میں گھس گیا، اسے کاٹتا تھا، یہ اپنی تمام تَر حکمرانی کے باوُجُود، تاج و تخت و حکومت کے باوُجُود ایک مچھر سے تنگ آ گیا، اس کے دربار کا یہ قانُون ہو گیا تھا کہ جو بھی دربار میں آئے، پہلے اس کے سَر میں 10 جوتے لگائے، پِھر بات کرے۔ جوتے پڑتے تھے تو اسے آرام ملتا تھا۔([2]) یہ ہے:
خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌۙ(۳) (پارہ:27، سورۂ وَاقِعہ: 3)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: کسی کو نیچاکرنے والی، کسی کو بلندی دینے والی۔
یعنی اللہ پاک کی پکڑ، اس کا اَزلی فیصلہ جب آجاتا ہے تو بڑے بڑوں کو ذلیل و رُسْوا کر ڈالتا ہے۔
بڑی خوبصُورت حدیثِ پاک ہے، ہمیں یہ ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے! حضور جانِ کائنات،
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami