Share this link via
Personality Websites!
478992
9499
كَاذِبَةٌۘ(۲) خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌۙ(۳)
ہو گی، (اس وقت) اس کے واقع ہونے میں کسی کو انکار کی گنجائش نہ ہوگی، کسی کو نیچا کرنے والی،کسی کو بلندی دینے والی۔
ان 3آیات کے 3مَعَانی بیان کیے گئے ہیں:
پہلا معنیٰ یہ ہے کہ اِن آیاتِ کریمہ میں وَاقِعہ سے مُراد اللہ پاک کا حکمِ ازلی غالِب آنے کا وقت ہے۔([1]) مطلب یہ بنے گا: جب اللہ پاک کا اَزلی فیصلہ غالب آجائے گا، تب کوئی بھی اُسے رَوْک نہیں سکے گا، وہ فیصلہ کیسا ہو گا؟ فرمایا:
خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌۙ(۳) (پارہ:27، سورۂ وَاقِعہ: 3)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: کسی کو نیچاکرنے والی، کسی کو بلندی دینے والی۔
اللہ پاک کا وہ فیصلہ اُونچوں کو نیچا کر دینے والا ہے، کمزوروں کو طاقت وَر بنا دینے والا ہے۔
*.فرعون...!! وہ کمزور تَرِین بندہ...!! وہ بھی تَو انسان ہی تھا مگر جب اپنی اَوْقات بُھولا تو کہا:
اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى٘ۖ(۲۴) (پارہ:30، سورۂ نَازِعَات:24)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: میں تمہارا سب سے اعلیٰ ربّ ہوں۔
اللہ اکبر! کیسا غرور تھا، بندہ تھا، کمزور تھا مگر غرور میں حَدْ سے گزر گیا، تب اللہ پاک کا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami