Share this link via
Personality Websites!
478991
9499
اے اللہ پاک! اگر میں یہاں موجود نہیں تھی تَو تُو تَو دیکھ ہی رہا تھا، اے مالِکِ کریم! سب بادشاہوں کے بادشاہ اس ظالِم بادشاہ نے میرا گھر گِرا دیا ہے۔ بس بڑھیا کی اِس فریاد کی دَیْر تھی کہ اُسی وقت زلزلہ آیا اور بادشاہ کا محل مٹی میں مِل گیا۔([1])
اللہ اکبر! اللہ پاک نے اس بادشاہ کی کیسی پکڑ فرمائی ، دنیا میں ہی اس کی سزا یہ ہوئی کہ اس کا محل زمین میں دھنس گیا ۔ اس میں ہمارے لیے سبق ہے کہ *.ہم طاقت و قوت کے نشے میں *.عہدے اور مَنْصَبْ کے نشے میں *.مال و دولت کے نشے میں *.رابطے اور تعلّق کے نشے میں دوسروں کو حقیر نہ جانیں کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری دنیا بھی خراب ہو جائے اور آخرت کے دن کہ جب اللہ پاک کی پکڑ آ جائے گی، ہم زور لگا کر بھی اسے روک نہیں سکیں گے ، جب طاقت ور کمزور ہو جائیں گے، کمزور طاقت وَر ہو جائیں گے، تقدیر جب غلبہ کرے گی تو اُونچے پست ہو جائیں گے، پست اُونچے ہو جائیں گے۔ اُس دن ہم اللہ پاک کے غضب کے حق دار نہ بن جائیں۔
فخر و غُرور سے تُو مولیٰ مجھے بچانا یا ربّ! مجھے بنا دے پیکر تُو عاجزی کا
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! سُورۂ وَاقِعہ کی صِرْف پہلی 3 آیات اور ان کی کچھ وضاحت اور ان سے ملنے والے اسباق آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ اللہ پاک نے فرمایا:
اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ(۱) لَیْسَ لِوَقْعَتِهَا (پارہ:27، سورۂ وَاقِعہ:1-3)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: جب واقع ہونے والی واقع
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami