Share this link via
Personality Websites!
479009
9499
یعنی تم زندہ لوگ بہت زیادہ غفلت میں ہو اور ہم جو قبر میں اُتر چکے، ہم بہت زیادہ حسرت میں ہیں۔ ([1])
پیارے اسلامی بھائیو! اس سے پہلے کہ موت ہمیں آ دَبوچے، اس سے پہلے کہ قیامت قائِم ہو جائے، اس سے پہلے کہ قبر کے اندر کیڑے بھرنا شروع ہو جائیں، اس سے پہلے کہ قیامت کی رُسْوائیاں شروع ہو جائیں، ہمیں آج اور ابھی سے ہی تَوْبَہ کر کے، اپنے رحمٰن و رحیم رَبِّ کریم سے گُنَاہوں کی معافی مانگ کر، جن گُنَاہوں کی تلافی بنتی ہے، ان کی تلافی کر کے نیکیوں میں مصروف ہو جانا چاہیے۔
اللہ پاک کی رحمت تو دیکھیے! کتنی وسیع ہے۔ جو تَوْبَہ کر لیتا ہے اللہ پاک اسے اپنا مَحْبُوب بندہ بنا لیتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:
اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ (پارہ:2،سورۂ بَقَرہ: 222)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:بیشک اللہ بہت توبہ کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے ۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: جو شخص 3 با ر اَسْتَغْفِرُ اللہ الْعَظِیْمَ الَّذِیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ وَ اَتُوْبُ اِلَیْہِ(یعنی میں اللہ پاک سے مغفرت کا سوال کرتا ہوں کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ آپ زندہ ہے اوروں کو قائم رکھنے والا، مَیں اُسی کی طرف رجوع کرتا ہوں) پڑھے اُس کے گنا ہ بخش دیئے جائیں گے اگرچہ سمندر کی جھاگ سے زِیادہ ہوں۔([2])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami