Share this link via
Personality Websites!
479008
9499
تھا پھر میں نے دیکھا کہ ایک اور شخص اس زنجیر کو پکڑے ہوئے ہے اس دوسرے نے باہر نکلنے والے شخص کو اپنی طرف کھینچا اور اسے قبر میں لوٹا دیا، پھر میں نے اسے اس مردے کو مارتے ہوئے دیکھا او ر مردہ کہہ رہا تھا :کیا میں نماز نہیں پڑھتا تھا؟ کیامیں جنابت سے غسل نہیں کرتا تھا؟ کیا میں روزے نہیں رکھتا تھا؟ تو اس مارنے والے نے جواب دیا:ہاں!کیوں نہیں(تُو واقعی یہ کام تو کرتا تھا) مگر جب تُو تنہائی میں گناہ کیا کرتا تھا تو اس وقت اللہ پاک سے نہیں ڈرتا تھا۔ ([1])
اللہ اکبر! اے عاشقانِ رسول! تَصَوُّر باندھیے! کون ہے جو ایسا خطرناک تَرِین عذاب برداشت کر سکتا ہے...!! یقیناً ہم میں سے کسی کو بھی اس کی ہمت نہیں ہو گی مگر افسوس! ہم ڈرتے نہیں ہیں، غفلت میں پڑتے ہیں، سُستی کرتے ہیں، لوگوں سے شرما کر بھلے ہی گُنَاہ چھوڑ دیں، بُرا کام کرنے سے رُک جائیں مگر تنہائی میں وہ گُنَاہوں کا بازار گرم ہوتا ہے کہ اَلْاَمَان وَالْحَفِیظ...!!
پیارے اسلامی بھائیو! ابھی ہم زندہ ہیں، آج ہمارے پاس وقت ہے، ہم تَوبہ کر کے پچھلے گُنَاہ بخشوا سکتے ہیں، نیک کام کر کے قبر روشن کرنے کا انتظام کر سکتے ہیں، اگر یہ سانس کی مالا ٹُوٹ گئی، رُوح جسم سے نکال لی گئی تو سِوائے پچھتاوے کے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ کہتے ہیں: کسی مُردَے کو خواب میں دیکھا گیا تو اس نے کہا:
مَا عِنْدَکُمْ اَکْثَرُ مِنَ الْغَفْلَۃِ وَ مَا عِنْدَنَا اَکْثَرُ مِنَ الْحَسْرَۃِ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami