Share this link via
Personality Websites!
478990
9499
سننے سے پہلے کچھ اچھّی اچھّی نیّتیں کر لیتے ہیں، نیت کیجیے!*رضائے الٰہی کے لیے بیان سُنوں گا*بااَدَب بیٹھوں گا* خوب تَوَجُّہ سے بیان سُنوں گا*جو سُنوں گا، اُسے یاد رکھنے، خُود عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! سُورۂ وَاقِعہ 27 وَیں سپارے کی سُورت ہے، اس میں 3رکوع اور 96آیات ہیں۔ اس سورۂ میں اللہ پاک نے قیامت اور احوال قیامت کو بیان کیا ہے، آج ہم اس سورۂ کی پہلی تین آیتوں سے مُتَعَلِّق سنیں گے جن میں اللہ پاک نے قیامت کا ابتدائی حال اور اس دن کی کیفیت کو بیان کیا ہے ۔ اس سے پہلے میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں؛
کتابوں میں لکھا ہے: ایک بادشاہ تھا، بڑی عزّت رکھتا تھا، بڑی سلطنت تھی، نوکر چاکر، فوج، خزانے سب کچھ تھا، اِتفاق ایسا ہوا کہ بادشاہ کے محل کے سامنے ہی ایک بڑھیا کی چھوٹی سی جھونپڑی تھی، وہ جگہ اِس بڑھیا کی ملکیت میں تھی، ظاہِر ہے عالیشان محل کے قریب ہی چھوٹی سی جھونپڑی بادشاہ کو برداشت نہیں ہو سکتی تھی،اس سے محل کی شان و شوکت میں فرق آتا تھا، بادشاہ نے بڑھیا کو کہا کہ اپنی یہ زمین مجھے فروخت کر دو۔ مگر بڑھیا نہ مانی، ایک دِن ایسا ہوا کہ بڑھیا کسی کام سے جنگل کی طرف گئی تھی کہ بادشاہ نے سپاہی بھیجے اور اس کی جھونپڑی کو تباہ کر دیا۔
بڑھیا واپس آئی تو اپنا گھر گِرا پڑا دیکھا، اب بڑھیا نے کچھ نہیں کیا، نہ بادشاہ کو گالیاں دِیں، نہ کسی کے دروازے پر جا کر رَوئی، چِلّائی، بَس آسمان کی طرف نگاہ اُٹھائی اور کہنے لگی:
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami