Share this link via
Personality Websites!
479007
9499
دیئے تو ان نازُک ہڈیوں(Bones) کا کیا بنے گا؟
صحابئ رسول حضرت عبد اللہ بن عبّاس رَضِیَ اللہ عنہما فرماتے ہیں: اے گناہ گار! تُو گناہ کے انجامِ بد سے کیوں بے خوف(Fearless) ہے؟ حالانکہ گناہ کی طلب میں رہنا گناہ کرنے سے بھی بڑا گناہ ہے * تیرا دَائیں، بائیں جانب کے فرشتوں سے حَیا نہ کرنا اور گناہ پرقائم رہنا بھی بہت بڑا گناہ ہے یعنی تَوْبَہ کیے بغیر تیرا گناہ پر قائم رہنا اس سے بھی بڑا گناہ ہے *تیرا گناہ کرلینے پر خوش ہونا اور قَہْقَہَہ لگانا اس سے بھی بڑا گناہ ہے حالانکہ تُو نہیں جانتا کہ اللہ پاک تیرے ساتھ کیا سلوک فرمانے والا ہے؟ *اور تیرا گناہ میں ناکامی پر غمگین ہونا اس سے بھی بڑاگناہ ہے۔ گناہ کرتے ہوئے تیز ہوا سے دروازے کا پردہ اُٹھ جائے تَو تُو ڈر جاتا ہے مگر اللہ پاک کی اس نظر سے نہیں ڈرتا جو وہ تجھ پر رکھتا ہے تیرا یہ عمل اس سے بھی بڑا گُناہ ہے۔([1])
کب گناہوں سے کَنارا میں کروں گا یاربّ!
نیک کب اے مِرے اللہ! بنوں گا یا ربّ!
کب گناہوں کے مَرض سے میں شفا پاؤں گا
کب میں بیمار، مدینے کا بنوں گا یاربّ!([2])
حضرت عبداللہ بن زید رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں:میں چاند کی ابتدائی راتوں میں قبرستان کے پاس سے گزرا تو میں نے ایک شخص کو قبر سے نکلتے ہوئے دیکھا وہ زنجیر کھینچ رہا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami