Share this link via
Personality Websites!
479006
9499
سُوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ایسی حالت میں *ہماری بُرائی کا جھنڈا گاڑ دیا گیا *اعلان ہو گا؛ یہ دوسروں کو دھوکے دیا کرتا تھا *یہ چُھپ کر گناہ کیا کرتا تھا *یہ راتوں کو سب سے چُھپ کر موبائل پر گندے مناظر دیکھا کرتا تھا *یہ بظاہِر نیک تھا مگر تنہائی میں گناہوں کا بازار گرم رکھا کرتا تھا۔ اے عاشقانِ رسول!سوچئے! خُوب سوچئے! اس وقت ہماری شرمندگی کا عالم کیا ہو گا...؟
چُھپ کے لوگوں سے کیے جس کے گناہ وہ خبردار ہے کیا ہونا ہے
ارے او مجرِم بے پروا دیکھ سر پہ تلوار ہے کیا ہونا ہے
کام زِنْداں کے کیے اور ہمیں شوقِ گلزار ہے کیا ہونا ہے([1])
پیارے اسلامی بھائیو! گُنَاہ چاہے چُھپ کر کیا جائے یا لوگوں کے سامنے کیا جائے، گُنَاہ تو آخر گُنَاہ ہی ہے۔ اور اللہ پاک اپنی نافرمانی کرنے والے بندوں پر سخت غضب فرماتا ہے۔ غور فرمائیے!یہ وہ لوگ تھے جو ظاہری طور پر تو نیک تھے مگر چُھپ کر گناہ کرتے تھے اور ایک ہم ہیں کہ عَلَی الْاِعلان(یعنی سب کے سامنے) گناہ کرتے پھرتے ہیں اور ذرا نہیں شرماتے، ہمارا کیا بنے گا؟ آہ!ذرا سوچئے تو سہی! اگر یُونْہی گناہ کرتے کرتے قبر میں اُتر گئے اور ہم پر عذاب مُسَلَّط کردیاگیا تو ہم کیا کریں گے؟اگر سانپ بچھوؤں نے کفن پھاڑ کر ہمارے جسم پر قبضہ جمالیا تو کہاں جائیں گے؟قبر کی دیواریں ملنے سے ہماری پسلیاں ٹوٹ پھوٹ کر ایک دوسرے میں پیوست ہوگئیں تو کیسی شدید تکلیف ہوگی؟ ایک پتھر کی چوٹ تو برداشت ہوتی نہیں اگر فرشتوں نے ہتھوڑے(Hammers) برسانے شروع کر
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami