Share this link via
Personality Websites!
479005
9499
حُضورِ اکرم، نورِ مُجَسَّم صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم نے فرمایا: قیامت کے دن ہر خیانت کرنے والے کے لیے ایک جھنڈا گاڑا جائے گا، جس سے اس کی پہچان ہو گی۔([1])
ایک روایت میں فرمایا: روزِ قیامت ہر دھوکے باز کے لیے جھنڈا گاڑا جائے گا اور کہا جائے گا: یہ فُلاں بن فُلاں کا جھنڈا ہے۔ ([2])
امام شَمسُ الدِّین قُرْطبی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: روزِ قیامت ہر نیک و بد کے لیے جھنڈا گاڑا جائے گا، نیک اپنے جھنڈے کے سبب دُوْر سے پہچانا جائے گااور بدکار اپنے بَدی کے جھنڈے کے ذریعے پہچانا جائے گا۔([3])
اللہ اکبر! پیارے اسلامی بھائیو! غور کیجیے! یہ کیسی رُسوائی کا وقت ہو گا، حضرت آدم علیہ السَّلام سے لے کر قیامت تک آنے والے سب جمع ہوں گے *.آج جو ہمیں حاجی صاحب کہہ کر ادب سے بُلاتے ہیں *.جو دُور سے دیکھ کر سلام لینے کے لیے دوڑے چلے آتے ہیں *.جو ہاتھ چومتے ہیں *.گلی سے گزرتے دیکھ لیں تو چائے کی دعوت پیش کرتے ہیں *.جو ہماری عزّت کی خاطِر چیزوں کی قیمت کم لگاتے ہیں *.وہ جو برکت کے لیے ہم سے دُعائیں کرواتے ہیں، سب موجود ہوں گے۔
اور زمین بھی چپٹی ہو گی، ایسی کہ ایک کنارے پر ایک دانہ رکھ دیا جائے تو دوسرے کنارے سے صاف نظر آئے گا۔ ([4]) یعنی سب موجود اور زمین بھی بالکل چپٹی، چھپنے کا کوئی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami