Share this link via
Personality Websites!
479004
9499
اُس کے ساتھ ہی قبر سے نکلیں گے، پِھر جب یہ آخرت کے حساب کے لیے میدانِ مَحْشَر کی طرف بڑھے گا، اُس کے سب اچھّے یا بُرے اعمال جمع ہو جائیں گے، ان میں سے کوئی چھوٹا، کوئی بڑا گُنَاہ بُھلایا نہیں جائے گا، اُس کے ظاہِر اور چھپے ہوئے سب اعمال سامنے آجائیں گے۔([1])
اَعْمال لوگوں کا استقبال کریں گے
حضرت عَمْرو بن قیس رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں: *.مسلمان جب اپنی قبر سے نکلے گا تو اُس کا عمل خوبصورت شکل اور بہترین خوشبو کی صورت میں اُس کا اِستقبال کرے گااور اُس سے پُو چھے گا: تم مجھے پہچانتے ہو؟ بندہ کہے گا: تم بہت خوبصُورت ہو، بہت خوشبودار بھی ہو مگر میں تمہیں پہچانتا نہیں ہوں۔ اُس کا اچھا عَمَل کہے گا: دُنیا میں تم بھی اِسی طرح تھے، تمہاری خوشبو (یعنی تمہارا کردار، تمہارے اعمال اور تمہاری سیرت) بہت پیاری تھی، میں تمہارا نیک عمل ہوں، جب تک تم دُنیا میں رہے میں تم پر سُوار رہا ہوں(یعنی تمہیں خواہشات سے روکےرکھا، تمہیں نیکیوں میں مَصْرُوف رکھا)، آج کے دِن تم مجھ پر سُوار ہو جاؤ۔
یہ نیک مسلمان کا حال ہو گا جبکہ *.غیر مسلم کا عَمَل اُس کا استقبال بہت ہی بُری اور سخت بدبودار (Stinky) شکل میں کرے گا، جب بندہ قبر سے اُٹھے گا تو اُس کا بُرا عَمَل آئے گا، پوچھے گا: کیا تم مجھے پہچانتے ہو؟ غیر مسلم بولے گا: تم کتنے بدصُورت ہو، تم سے کیسی سخت بدبُو اُٹھ رہی ہے، میں تمہیں نہیں پہچانتا۔ اُس کا بُرا عمل کہے گا: تم بھی دُنیا میں ایسے ہی بدبودار تھے، میں تمہارا بُرا عَمَل ہوں، دُنیا میں تم مجھ پر سُوار رہے، آج میں تم پر سُوار ہو جاؤں گے۔([2])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami