Share this link via
Personality Websites!
479003
9499
مگر چھپے ہوئے ہیں *دِل کی سیاہیاں سفید لباس کے اندر چھپی ہوئی ہیں *کوئی طاقت کے پیچھے چھپا ہوا ہے *کوئی عہدے اور مَنْصَبْ کے پیچھے چُھپا ہوا ہے *کوئی مال و دولت کے پیچھے چھپا ہوا ہے، اَصْل میں تو یہ سب اللہ پاک کی ستّاری ہے کہ اس نے ہمارے عیب چھپا رکھے ہیں مگر یاد رکھیے! قیامت بھرم ٹوٹنے کا دِن ہے، چھپے راز فاش ہو جانے کا دِن ہے۔ اللہ پاک فرماتا ہے:
یَوْمَ تُبْلَى السَّرَآىٕرُۙ(۹) فَمَا لَهٗ مِنْ قُوَّةٍ وَّ لَا نَاصِرٍؕ(۱۰) (پارہ:30، سورۂ طَارِق :9و10(
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: جس دن چھپی باتوں کو جانچا جائے گا تو آدمی کے پاس نہ کچھ قُوت ہو گی اورنہ کوئی مددگار۔
یعنی قیامت کے دِن سب چھپی باتیں سامنے آجائیں گی، اس دِن غیر مسلموں کے لیے کوئی طاقت اور کوئی مددگار نہیں ہو گا۔
قبروں سے اُٹھنے کے مختلف احوال
علّامہ اِبْنِ جوزی رحمۃُ اللہ علیہ لکھتے ہیں: روایات میں آیا ہےکہ جب بندہ مَرتا ہے تو اُس کے اَعْمال چاہے اچھّے ہوں یا بُرے، اُس کے سَر کے پاس جمع ہو جاتے ہیں، جب اُسے غسل دیا جاتا ہے، کفن پہنایا جاتا ہے، اُس پر نمازِ جنازہ پڑھی جاتی ہے، ان تمام وقتوں میں وہ اعمال اُس کے ساتھ ساتھ رہتے ہیں اور اُس کے ساتھ ہی اُس کی قبر میں اُتر جاتے ہیں، لوگ تو میّت کو دفنا کر پلٹ آتے ہیں مگر اَعْمال اُس کے ساتھ قبر میں رہ جاتے ہیں، پِھر قیامت تک اُس کے یہ اَعْمال اُس کے ساتھ ہی رہتے ہیں، یہاں تک کہ جب قبریں کُریدی جائیں گی، مُردَوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا، اُس وقت اُس کے اَعْمال اچھّے ہوں یا بُرے،
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami