Share this link via
Personality Websites!
479002
9499
ایک حدیثِ پاک میں ہے: بلاشُبہ لوگوں کا مذاق اُڑانے والے کے لیے جنّت کا دروازہ کھولا جائے گا، پھر اسے بُلایا جائے گا: آؤ! قریب آؤ...! جب وہ جنّت کے قریب آئے گا تو دروازہ بند کر دیا جائے گا، اسی طرح کئی بار کیا جائے گا۔([1])
آہ! وہ نادان جو دوسروں کی عزّت کا خیال نہیں رکھتے، مذاق اُڑاتے اور دوسروں کو ذلیل کر کے ہنستے اور خوشیاں مناتے ہیں، اس روایت کو بار بارپڑھیں، اس پر غور کریں، ذرا سوچیں تو سہی...! وہ قیامت کا 50 ہزار سال کا دِن، تانبے کی دہکتی ہوئی زمین، آگ برساتا سورج، ہر طرف نَفْسِی نَفْسِی کا عالَم، اس صُورتِ حال میں جب کسی کو جنّت کی طرف پُکارا جائے گا، اس کے دِل میں کیسی خوشی داخِل ہو گی، وہ اپنی قسمت پر رشک کرتا، کتنی اُمِّید کے ساتھ جنّت کی طرف لپکے گا مگر آہ...! جیسے ہی جنّت کے قریب پہنچے گا، دروازہ بند کر دیا جائے گا، ذرا تَصَوُّر تو باندھیے! اس وقت کیسی نَدامَت ہو گی، اُمِّیدوں کے سارے چراغ یک دَم گُل ہو جائیں گے، خوشیاں مناتا ہوا دِل چَکنا چُور ہو جائے گا۔ آہ! یہ حسرت، یہ ندامت کس لیے ہو گی...؟ اس لیے کہ یہ بدنصیب دُنیا میں دوسروں کا مذاق اُڑاتا تھا، روزِ قیامت اسے اس بُرے کام کا بدلہ دیا جائے گا۔
بھائیوں کا دل دُکھانا چھوڑ دو اور تمسخر بھی اُڑانا چھوڑ دو([2])
پیارے اسلامی بھائیو! قیامت بھرم ٹوٹنے کا دِن ہے، آج ہم اندر سے جو کچھ بھی ہیں
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami