Share this link via
Personality Websites!
479001
9499
عورتیں دوسری عورتوں پر ہنسیں، ہوسکتا ہے کہ وہ اُن ہنسنے والیوں سے بہتر ہوں۔
ہر ایک کا اپنا ذوق ہوتا ہے، زِندگی گزارنے کا انداز اپنا ہوتا ہے، ہم کسی کے انداز پر تنقید نہیں کر سکتے، ہم کسی کے لباس پر، اس کے طرزِ زندگی (Life Style) پر تنقید نہیں کر سکتے، یہاں تک کہ اگر کوئی گُنَاہ گار ہے تو اسے بھی اچھے انداز سے نیکی کی دعوت تو دی جائے گی مگر اس کا مذاق اُڑانا ہر گز درست نہیں ہے۔
آج کل ہمارے ہاں یہ وَبابہت عام ہے *کسی نے داڑھی شریف کی سُنّت سجا لی تو اس پر تنقید *کوئی عمامے شریف کا تاج سجا لے تو اس پر تنقید *کوئی آدھی پنڈلی تک سُنّت کے مطابق کُرْتا پہنتا ہے تو اس پر تنقید *بےچارے غریب کے لباس پر طعن و تشنیع کرتے ہیں *دوسروں کی نقل اُتار کر ان کے انداز کا مذاق اُڑایا جاتا ہے *یہاں تک کہ بعض نادان قُدْرت کی بنائی ہوئی چیزوں کا بھی مذاق اُڑاتے ہوئے بالکل نہیں شرماتے *کسی کی آنکھ ٹیڑھی ہے تو اسے بھینگا کہہ کر مذاق اُڑائیں گے *کسی کی ناک لمبی ہے تو اس کی ناک کا مذاق *کسی کے ہونٹ موٹے ہیں تو اس کے ہونٹوں کا مذاق *کسی بےچارے کی ٹانگ میں مسئلہ ہے تو اسے لنگڑا کہہ کر مذاق اُڑاتے اور سامنے والے کی عزّتِ نفس کی دھجیاں اُڑاتے ہیں۔
اللہ پاک کے پیارے اور آخری نبی، رسولِ ہاشمی صلَّی اللہ علیہِ وَ آلِہٖ وَسلَّم نے فرمایا:
لَا تُمَارِ اَخَاکَ وَلَا تُمَازِحْہٗ
ترجمہ: اپنے بھائی سے جھگڑا نہ کرو، نہ اُس کا مذاق اُڑاؤ۔([1])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami